سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 240 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 240

سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۴۰ یہ الفاظ جب آپ کے منہ سے نکل رہے تھے تو وہ ایک تاثیر درد میں ڈوبے ہوئے تھے مگر اس کے ساتھ ہی خدا تعالیٰ کی رضا اور دنیائے فانی کی بے ثباتی کا جذبہ پیدا کر رہے تھے لوگ کہتے ہیں اور سچ کہتے ہیں۔دشمن کو بھی خدا نہ دکھائے پسر کا داغ لیکن یہاں حضرت مسیح موعود کے نابالغ اور جوان بچوں کو فوت ہوتے دیکھا مگر کبھی آپ نے زبان سے یا اپنے حالات سے کسی قسم کی بے صبری اور خدا سے دوری کا اظہار نہ کیا بلکہ آپ نے اپنے طرز عمل سے دکھایا کہ آپ خدا کی رضا پر ہر طرح خوش و خرم ہیں۔یہ واقعات وہ ہیں جو آپ کی اولاد کے متعلق ہوئے اس کے علاوہ اور بھی واقعات موت فوت کے ایسے ہوئے ہیں جو آپ کے عزیزوں اور بزرگوں کے حادثات تھے مثلاً والدین کی وفات، بڑے بھائی کی وفات۔ہر ایک موقع پر آپ نے اسی رضا بالقضا کا نمونہ دکھایا۔آپ کی حالت ہر ایک واقعہ کے وقت ایک خاص رنگ رکھتی تھی۔حضرت والدہ صاحبہ کو آپ سے بہت محبت تھی اور آپ ان کو دنیا میں ایک سپر سمجھتے تھے۔کبھی کبھی آپ کے ذکر پر چشم پر آب ہو جاتے تھے لیکن ایسی محسن اور بابرکت والدہ کے فوت ہو جانے پر آپ نے کسی قسم کی بے صبری کا نمونہ نہ دکھایا۔اور اسی طرح حضرت والد صاحب مرحوم کی وفات پر باوجودان نقصانات کے خطرہ کے جوان کی وفات سے دنیوی طور پر وابسطہ تھا آپ نے صبر و استقلال کے ساتھ اس حادثہ کو برداشت کیا۔پر اور اسی طرح اپنے بڑے بھائی کی وفات کے غم کو پی لیا اور خدا کی تقدیر سے راضی ہو گئے خاندان میں اور عزیزوں کی وفات ہوئی مگر آپ نے نہ صرف رضا بالقضا کا نمونہ دکھایا بلکہ سب کو اس کی تلقین کی۔گھر والے اب تک یہی کہتے ہیں کہ ہمیشہ کسی ایسے موقع پر آپ تسلی دیا کرتے تھے۔پھر ان جانی حادثات کے علاوہ مالی ابتلا آپ کے خاندان پر بعثت سے پہلے آئے۔مگر کبھی آپ نے شکوہ نہ