سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 239
سیرت حضرت مسیح موعود علیہا وعود علیہ السلام ۲۳۹ برس تھے آٹھ اور کچھ مہینے کہ جب خدا نے اُسے بلایا بلانے والا ہے سب سے پیارا اُسی پہ اے دل تو جاں فدا کر لوح مزار صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب) ان تمام تحریروں کو یکجائی نظر سے پڑھنے کے بعد جو اثر ایک شخص کے قلب پر ہونا چاہیے وہ یہی ہوگا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام خدا تعالیٰ کی رضا ہی اپنی زندگی کا مقصد اور منتہائے مراد سمجھتے تھے اور اپنے نمونہ سے انہوں نے ثابت کر دکھایا کہ کوئی حادثہ اور واقعہ جو ایک دنیا دار کے پائے ثبات و ہوش کو جنبش دے سکتا ہے اور جن واقعات نے اکثر وں کو پاگل بنا دیا اور بعضوں کی خود کشی تک نوبت پہنچ گئی اس مرد خدا کو ان واقعات نے ذرا بھی جنبش نہیں دی۔مرز افضل احمد صاحب کی وفات مرز افضل احمد صاحب حضرت اقدس کے دوسرے بیٹے تھے جو خان بہادر مرزا سلطان احمد صاحب پنشنز ڈپٹی کمشنر کے چھوٹے بھائی تھے۔اگر چہ حضرت اقدس کی بعثت اور ماموریت کے بعد وہ آپ کے پاس نہیں آئے تھے اور خان بہادر ہی کے پاس رہتے تھے اور خود بھی ایک سرکاری عہدہ دار تھے۔وہ عین عنفوانِ شباب میں فوت ہو گئے۔ان کی لاش قادیان میں لائی گئی اور اپنے خاندانی قبرستان میں مدفون ہوئے۔مغرب کی نماز کے بعد آپ اپنی جماعت کے ساتھ مسجد مبارک کی چھت پر حسب معمول تشریف فرما تھے۔ایک خادم نے عرض کیا مرز افضل احمد صاحب فوت ہو گئے اور ان کی لاش لا کر دفن کر دی گئی۔میں جو اُس وقت حضرت اقدس کے بالکل قریب بیٹھا ہوا تھا دیکھ رہا تھا کہ اس کا حضرت اقدس کے چہرہ پر کیا اثر ہوتا تھا۔یہ خبر اسی وقت حضرت نے نہ سنی تھی بلکہ اس سے پہلے بھی سن چکے تھے میں نے دیکھا کہ حضرت قدرتی اثر سے تو متاثر ہیں مگر آپ نے سن کر یہی فرمایا کہ ” ہم سب مرنے ہی والے ہیں بلکہ جس قدر انسان زمین پر چلتے پھرتے ہیں یہ چلتی پھرتی قبریں ہی ہیں۔إِنَّا لِلَّهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ“۔