سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 238
سیرت حضرت مسیح موعود علیہا موعود علیہ السلام امتحان ہوا تھا جیسے فرمایا اللہ تعالیٰ نے ۲۳۸ وَوَضَعْنَا عَنْكَ وِزْرَكَ الَّذِي أَنْقَضَ ظَهْرَكَ ( الم نشرح: ۴۳) جب سخت ابتلا آئیں اور انسان خدا کے لئے صبر کرے تو پھر وہ ابتلا فرشتوں سے جاملاتے ہیں۔انبیاء اسی واسطے زیادہ محبوب ہوتے ہیں کہ ان پر بڑے بڑے سخت ابتلا آتے ہیں اور وہ خود ہی ان کو خدا تعالیٰ سے جاملاتے ہیں۔امام حسین پر بھی ابتلا آئے اور سب صحابہ کے ساتھ یہی معاملہ ہوا کہ وہ سخت سے سخت امتحان میں ڈالے گئے۔رضا بالقصا کانمونہ فرمایا۔مبارک احمد کی وفات پر میری بیوی نے یہ بھی کہا ہے کہ ”خدا تعالیٰ کی مرضی کو میں نے اپنے ارادوں پر قبول کر لیا ہے اور یہ اس الہام 66 کے مطابق ہے کہ میں نے خدا کی مرضی کے لئے اپنی مرضی چھوڑ دی ہے۔“ فرمایا۔پچھپیں برس شادی کو ہوئے اس عرصہ میں انہوں نے کوئی واقعہ ایسا نہیں دیکھا جیسا اب دیکھا میں نے انہیں کہا تھا کہ ایسے محسن اور آقا نے جو ہمیں آرام پر آرام دیتا رہا اگر ایک اپنی مرضی بھی کی تو بڑی خوشی کی بات ہے۔فرمایا۔ہم نے تو اپنی اولاد وغیرہ کا پہلے ہی سے فیصلہ کیا ہوا ہے کہ یہ سب خدا تعالیٰ کا مال ہے اور ہمارا اس میں کچھ تعلق نہیں اور ہم بھی خدا تعالیٰ کا مال ہیں جنہوں نے پہلے ہی سے فیصلہ کیا ہوتا ہے ان کو غم نہیں ہوا کرتا۔(اخبار الحکم ۲۴ ستمبر ۱۹۰۷ ء صفحه ۹،۸) جگر کا ٹکڑا مبارک احمد جو پاک شکل اور پاک خُو تھا وہ آج ہم سے جدا ہوا ہے ہما رے دل کو حزیں بنا کر کہا کہ آئی ہے نیند مجھ کو یہی تھا آخر کا قول لیکن کچھ ایسے سوئے کہ پھر نہ جاگے تھکے بھی ہم پھر جگا جگا کر