سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 232 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 232

سیرت حضرت مسیح موعود علیہا علیہ السلام ۲۳۲ پس آج کل دار الامان میں خدا تعالیٰ کا نزول ہو رہا ہے۔ایک نئی شان میں جن لوگوں کو آج کل حضرت کی خدمت میں حاضر ہونے کا موقع ملا ہے وہ بڑے ہی خوش قسمت ہیں کیونکہ وہ ایک ایسا عملی سبق پڑھ رہے ہیں جس کو تقریر یا تحریر کی صورت میں ادا کرنا مشکل۔نادان اور ناحق شناس دشمن اس واقعہ پر استہزا کریں گے۔وہ کریں اور زور سے کریں کیونکہ اسی سے خدا تعالیٰ کی نصرت اور غیرت میں جو وہ اپنے بندے کے لئے رکھتا ہے غیر معمولی جوش اور حرکت پیدا ہوتی ہے۔اعتراض کرنا آسان امر ہے لیکن اگر حیا اور ایمان کوئی چیز ہے اور ضرور ہے تو اعتراض کرنے سے پہلے اس امر کو بحضور دل یا درکھنا چاہیے کہ کیا انبیاء علیہم السلام کی جماعت اس قسم کے امتحانوں اور آزمائشوں سے الگ رہی ہے۔احمق کے نزدیک یہ انگلی رکھنے کی جگہ ہے مگر دانش مند کے از دیاد ایمان کا موجب۔جب ایک سلیم الفطرت اس امر پر غور کرتا ہے کہ حضرت سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے گیارہ بچوں نے وفات پائی تو اس سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان اور بھی مضبوط ہوتا ہے کیونکہ وہ اندازہ کرتا ہے اس صبر اور رضا بالقضا کا جو گیارہ موتوں پر آپ نے دکھایا۔بہر حال اعتراض کرنے والے احمق ان باتوں کو کب دیکھتے ہیں خدا تعالیٰ کی آیات کے نزول پر ان کا تو محبت اور رجس اور بھی بڑھتا ہے۔ایمان والوں ہی کے ایمان بڑھا کرتے ہیں۔مگر انہیں یا درکھنا چاہیے کہ یہاں تو خدا تعالیٰ نے اِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلامٍ حَلِیم کہہ کر ایک اور بشارت دی ہے اور خدا تعالیٰ نے اس کی ذریت کے بڑھنے کا آج نہیں اکیس برس پہلے اعلان کیا ہوا ہے۔اسی میں بعض کے کم عمری میں فوت ہونے کی پیش گوئی ہے۔اس کی جسمانی اور روحانی نسل بڑھ رہی ہے اور بڑھے گی کیونکہ خدا تعالیٰ نے ایسا ہی ارادہ فرمایا ہے کہ ابراہیم کی طرح اس سے ایک قوم نکالے۔ہاں إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرُ کی وحی بھی اسے ہو چکی ہے پس ناخدا ترس معترض کو ڈرنا چاہیے۔“ (اخبارالحکم ۲۴ ستمبر ۱۹۰۷ صفحه ۲)