سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 231
سیرت حضرت مسیح موعود علیہا ۲۳۱ حضرت مسیح موعود کے رضا بالقضا کا نمونہ دنیا میں صبر اور استقلال کی تعلیم دینے والے اور رضا بالقضا اور قِيَامِ فِي مَا أَقَامَ اللہ کے لئے لمبے لمبے وعظ کہنے والے اور درس دینے والے دیکھے ہیں لیکن جب وہ خدا تعالیٰ کے کسی ابتلاء اور امتحان کے نیچے آئے ہیں تو انہوں نے وہ بُزدلی اور کم ہمتی دکھائی ہے جس کی حد نہیں فی الحقیقت کامل ایمان اور خدا پرستی کے کمال کا ایک ہی امتحان ہے کہ انسان مصائب اور محسر میں قدم پیچھے نہ ہٹائے بلکہ آگے بڑھائے اب یہ چشم دید واقعہ ہے اس کا ایک یا دو گواہ نہیں بلکہ صد ہا لوگ ہیں جو آج کل اس واقعہ ناگزیر کی تقریب کی وجہ سے اور حسب معمول یہاں آ رہے ہیں وہ دیکھتے ہیں کہ خدا کا معطر کیا ہوا مسیح موعود کس جلال اور شوکت کے ساتھ اس واقعہ صاحبزادہ صاحب کو بیان کرتا ہے۔عام طور پر اگر غور کیا جاوے تو وہ انسان جو ستر برس کے قریب ہوا اور جس کا ہونہار نیک سعادت مند بچہ فوت ہو جاوے اس کی کمر ٹوٹ جاتی ہے مگر یہاں معاملہ ہی الگ ہے۔حضرت مسیح موعود اس واقعہ کو ایسے جوش اور مزے سے بیان کرتے ہیں کہ الفاظ نہیں ملتے جو اس کیفیت کو ظاہر کیا جاوے۔حضرت مسیح موعود خوش ہیں کہ خدا تعالیٰ کی پیش گوئیاں پوری ہو گئیں۔حضرت مسیح موعود خوش ہیں کہ خدا تعالیٰ کے امتحان میں پورے اترے، سب سے بڑھ کر جو امر مسرت کا موجب ہے وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی خوشی کا اظہار فرمایا چنا نچہ حضرت مسیح موعود پر یہ وحی ہوئی ہے کہ خدا خوش ہو گیا انسانی زندگی کی اگر کوئی غرض اور غایت ہو سکتی ہے تو وہ یہی ہے کہ خدا اس سے خوش ہو جاوے اور وہ خدا سے راضی ہو جاوے اور اس طرح پر رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوا عَنْهُ کا نمونہ کامل بن جاوے۔پس یہ کس قدر خوشی کی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے برگزیدہ بندے سے خوش ہو نے کا اظہار کر دیا۔یہ چھوٹی سی بات نہیں یہی وہ بات ہے جس کے لئے نبیوں کی بعثت ہوتی ہے اور یہی وہ مقام ہے جو سلوک کی تمام منزلوں کا انتہائی مقام کہنا چاہیے۔