سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 228
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۲۸ شروع ہوا یعنی پہلے بشیر کی موت کی وجہ سے ابتلا کی ظلمت وارد ہوئی اور پھر اس کے بعد رعد اور روشنی ظاہر ہونے والی ہے اور جس طرح ظلمت ظہور میں آ گئی اسی طرح یقیناً جاننا چاہیئے کہ کسی دن وہ رعد اور روشنی بھی ظہور میں آ جائے گی جس کا وعدہ دیا گیا ہے۔جب وہ روشنی آئے گی تو ظلمت کے خیالات کو بالکل سینوں اور دلوں سے مٹادے گی اور جو جو اعتراضات غافلوں اور مُردہ دلوں کے منہ سے نکلے ہیں اُن کو نابود اور نا پدید کر دے گی یہ الہام جو ابھی ہم نے لکھا ہے ابتدا سے صدہا لوگوں کو بہ تفصیل سنا دیا گیا تھا چنانچہ منجملہ سامعین کے مولوی ابوسعید محمد حسین بٹالوی بھی ہیں اور کئی اور جلیل القدر آدمی بھی۔اب اگر ہمارے موافقین و مخالفین اسی الہام کے مضمون پر غور کریں اور دقت نظر سے دیکھیں تو یہی ظاہر کر رہا ہے کہ اس ظلمت کے آنے کا پہلے سے جناب الہی میں ارادہ ہو چکا تھا جو بذریعہ الہام بتلایا گیا اور صاف ظاہر کیا گیا کہ ظلمت اور روشنی دونوں اس لڑکے کے قدموں کے نیچے ہیں یعنی اس کے قدم اُٹھانے کے بعد جو موت سے مراد ہے اُن کا آنا ضرور ہے سواے وے لوگو! جنہوں نے ظلمت کو دیکھ لیا حیرانی میں مت پڑو بلکہ خوش ہو اور خوشی سے اچھلو کہ اس کے بعد اب روشنی آئے گی بشیر کی موت نے جیسا بقیہ حاشیہ سے غم کیا اور اس ابتلاء کی برداشت کر گئے کہ جو اس کی موت سے ظہور میں آیا غرض بشیر ہزاروں صابرین وصادقین کے لئے ایک شفیع کی طرح پیدا ہوا تھا اور اس پاک آنے والے اور پاک جانے والے کی موت ان سب مومنوں کے گناہوں کا کفارہ ہو گئی۔اور دوسری قسم رحمت کی جو ابھی ہم نے بیان کی ہے اس کے تکمیل کے لئے خدا تعالیٰ دوسرا بشیر بھیجے گا۔جیسا کہ بشیر اول کی موت سے پہلے۔ار جولائی ۱۸۸۸ء کے اشتہار میں اس کے بارہ میں پیشگوئی کی گئی ہے اور خدا تعالیٰ نے اس عاجز پر ظاہر کیا کہ ایک دوسرا بشیر تمہیں دیا جائے گا جس کا نام محمود بھی ہے اور وہ اپنے کاموں میں اولوالعزم ہوگا۔يَخْلُقُ اللهُ مَا يَشَآءُ اور خدا تعالیٰ نے مجھ پر یہ بھی ظاہر کیا کہ ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء کی پیشگوئی حقیقت میں دو سعید لڑکوں کی پیدائش ہونے پر مشتمل تھی اور اس عبارت تک کہ مبارک وہ جو آسمان سے آتا ہے پہلے بشیر کے متعلق پیشگوئی ہے کہ جو روحانی طور پر نزول رحمت کا موجب ہوا اور اس کے بعد کی عبارت دوسرے بشیر کی نسبت ہے۔منہ