سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 223
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۲۳ عشق اول سرکش و خونی بود تا گریز دہر کہ بیرونی بود ابتلاء جو اوائل حال میں انبیاء اور اولیاء پر نازل ہوتا ہے اور باوجود عزیز ہونے کے ذلت کی صورت میں ان کو ظاہر کرتا ہے اور باوجود مقبول ہونے کے کچھ مردود سے کر کے اُن کو دکھاتا ہے یہ ابتلاء اس لئے نازل نہیں ہوتا کہ ان کو ذلیل اور خوار اور تباہ کرے یا صفحہ عالم سے ان کا نام ونشان مٹادیوے کیونکہ یہ تو ہر گز ممکن ہی نہیں کہ خداوند عزوجل اپنے پیار کرنے والوں سے دشمنی کرنے لگے اور اپنے بچے اور وفا دار عاشقوں کو ذلت کے ساتھ ہلاک کر ڈالے بلکہ حقیقت میں وہ ابتلاء کہ جو شیر ببر کی طرح اور سخت تاریکی کی مانند نازل ہوتا ہے اس لئے نازل ہوتا ہے کہ تا اس برگزیدہ قوم کو قبولیت کے بلند مینار تک پہنچاوے اور الہی معارف کے بار یک دقیقے اُن کو سکھاوے۔یہی سنت اللہ ہے جو قدیم سے خدائے تعالیٰ اپنے پیارے بندوں کے ساتھ استعمال کرتا چلا آیا ہے زبور میں حضرت داؤد کی ابتدائی حالت میں عاجزانہ نعرے اس سنت کو ظاہر کرتے ہیں اور انجیل میں آزمائش کے وقت میں حضرت مسیح کی غریبانہ تفرعات اسی عادت اللہ پر دال ہیں اور قرآن شریف اور احادیث نبویہ میں جناب فخر الرسل کی عبودیت سے ملی ہوئی ابتہالات اسی قانون قدرت کی تصریح کرتے ہیں کہ اگر یہ ابتلاء درمیان میں نہ حمید حاشیہ۔زبور میں حضرت داؤد علیہ السلام کی دعاؤں میں سے جو انہوں نے ابتلائی حالت میں کیں ایک یہ ہے اے خدا تو مجھ کو بچالے کہ پانی میری جان تک پہنچے ہیں۔مگر میں گہری پہنچ میں جھنس چلا جہاں کھڑے ہونے کی جگہ نہیں۔میں چلاتے چلاتے تھک گیا۔مگر میری آنکھیں دھندلا گئیں۔وہ جو بے سبب میرا کینہ رکھتے ہیں۔شمار میں میرے سر کے بالوں سے زیادہ ہیں۔اے خداوند رب الافواج وہ جو تیرا انتظار کرتے ہیں میرے لئے شرمندہ نہ ہوں۔وہ جو تجھ کو ڈھونڈتے ہیں وہ میرے لئے ندامت نہ اٹھاویں۔وے پھاٹک پر بیٹھے ہوئے میری بابت بکتے ہیں اور نشے بازمیرے حق میں گاتے ہیں۔تو میری ملامت کشی اور میری رسوائی اور میری بے حرمتی سے آگاہ ہے۔میں نے تا کا کہ کیا کوئی میرا ہمدرد ہے کوئی نہیں۔(دیکھوز بو ۶۹) ایسا ہی حضرت مسیح علیہ السلام نے ابتلاء کی رات میں جس