سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 221 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 221

سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۲۱ عجیب طور کا شور و غوغا خام خیال لوگوں میں اٹھا اور رنگا رنگ کی باتیں خویشوں وغیرہ نے کیں اور طرح طرح کی نافہمی اور کج دلی کی راہیں ظاہر کی گئیں۔مخالفین مذہب جن کا شیوہ بات بات میں خیانت و افترا ہے انہوں نے اس بچہ کی وفات پر انواع و اقسام کی افتر اگھڑنی شروع کی۔( مجموعہ اشتہارات جلد اصفحہ ۴۱ اطبع بار دوم - روحانی خزائن جلد نمبر ۲ صفحه ۴۴۷) اگر ان اشتہارات کے بعض حصے میں یہاں درج کروں تو ہر شخص کا حوصلہ نہیں کہ ان کو سن بھی سکے۔مگر حضرت مسیح موعود کے حوصلہ اور رضا بالقضا کے نمونہ کو دیکھو کہ آپ نہ صرف خود آرام یافتہ اور تسلی یافتہ قلب رکھتے ہیں بلکہ وہ لوگ جو آپ سے تعلق اور ارادت رکھتے تھے ان کو بھی اس موقع پر معرفت کے پانی سے سیراب کرتے ہیں۔حقانی تقریر جو اس موقع پر آپ نے شائع کی وہ دیکھنے کے قابل ہے۔اس میں حقانی علوم اور معرفت کے دریا بہا دیئے ہیں۔کیا کوئی پریشان خاطر صدمہ رسیدہ دل ایسے موقع پر ربانی معرفت کے چشمہ کو جاری کر سکتا ہے۔آزرده دل آزرده کند انجمنی را ایک صحیح مقولہ ہے۔لیکن حضرت مسیح موعود کی مجلس میں دیکھا ہے کہ کیسا ہی غم زدہ ہو آپ کے پاس بیٹھ کر تلی اور اطمینان پاتا تھا۔جس سے پایا جاتا ہے کہ آپ کو ایک مطمئن قلب اور معرفت کی مسرت و انبساط سے معمور دل دیا گیا تھا ، جو اطمینان اور سکینت کی لہریں ہر طرف بجلی کی لہروں کی طرح پھیلا رہا تھا۔بشیر اؤل کی وفات پر آپ نے حضرت حکیم الامت کو ایک لمبا خط لکھا اس میں تحریر فرمایا کہ اس جگہ یہ بھی تحریر کے لائق ہے کہ اس کی موت سے پہلے اللہ جل شانہ نے اس عاجز کو پوری بصیرت بخش دی تھی کہ یہ لڑکا اپنا کام کر چکا ہے اور اب فوت ہو جائے گا اسی وجہ سے اس کی موت نے اس عاجز کی قوت ایمانی کو بہت ترقی دی اور آگے قدم بڑھایا۔مکتوبات احمد جلد ۲ صفحہ ۷۹ مطبوعہ ۲۰۰۸ء)