سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 220
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۲۰ لگے رہتے ہیں یہی عادت اللہ ان لوگوں سے جاری ہے جن پر اس کی نظر عنایت ہے۔غرض جو اُس کی نگاہ میں راست باز اور صادق ہیں وہ ہمیشہ جاہلوں کی زبان اور ہاتھ سے تکلیفیں اٹھاتے چلے آئے ہیں۔سو چونکہ سنت اللہ قدیم سے یہی ہے اس لئے اگر ہم بھی خویش و بیگانہ سے کچھ آزار اٹھائیں تو ہمیں شکر بجالانا چاہیے۔اور خوش ہونا چاہیے کہ ہم اس محبوب حقیقی کی نظر میں اس لائق تو ٹھہرے کہ اس کی راہ میں دکھ دیئے جائیں اور ستائے جائیں“۔مجموعہ اشتہارات جلد ا صفحه ۱۰۸ طبع بار دوم ) اس اشتہار سے جہاں یہ ظاہر ہے کہ اس وقت کس قد رسب و شتم اور ہنسی ٹھٹھا کیا گیا وہاں یہ بھی ظاہر ہے کہ آپ خدا کی مقادیر سے کس قدر صلح رکھتے تھے اور کس قدر رضا بالقضا کے عامل تھے۔غرض صاحبزادی عصمت کی پیدائش پر مخالفین نے شور مچایا اور پھر اس پر طرہ یہ کہ وہ بھی فوت ہو گئی۔اس کے بعد اس بشارت موعودہ کے زیر نظر جب بشیر اول پیدا ہوا تو اجتہادی طور پر حضرت اقدس نے اس بشیر کو موعود خیال کرنا چاہا مگر خود پیشگوئی میں جو الفاظ تھے وہ اس کی موت پر دلالت کرتے تھے چنانچہ اس وعدہ الہی کے ماتحت بشیر اول بھی فوت ہو گیا۔بشیر اول ۷ راگست ۱۸۸۷ء کی رات کو ڈیڑھ بجے کے قریب پیدا ہوا تھا اور ۱۴ نومبر ۱۸۸۸ء کو بروز یک شنبہ اپنی عمر کے سولہویں مہینے بوقت صبح فوت ہو گیا۔بشیر اوّل کے عقیقہ کی تقریب پر بہت سے لوگ آئے تھے اور اس کی پیدائش پر ایک اشتہار بعنوان خوشخبری شائع ہوا تھا لیکن جب اس قدر اعلان واشتہار اس کے متعلق ہو چکا تو اللہ تعالیٰ نے اپنی مصلحت اور مشیت سے بشیر اوّل کو بلا لیا۔بشیر اول کی وفات والدین کے لئے بیٹے کے داغ کی حیثیت سے ہی بڑا صدمہ نہ تھا بلکہ سب سے بڑا دکھ اور تکلیف اور ہمت آزما ابتلا یہ تھا کہ مخالفین نے ایک طوفان بے تمیزی برپا کر دیا۔عیسائیوں آریوں اور مخالف الرائے مسلمانوں نے اس پر شور مچایا اور مختلف قسم کے اشتہار شائع کئے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود نے اس پر جو حقانی تقریر شائع کی ہے اس میں ابتدا ء لکھا ہے کہ