سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 219
سیرت حضرت مسیح موعود علیہا السلام ۲۱۹ تفہیم یہ تھی کہ وہ زندہ نہیں رہے گی۔خدا تعالیٰ اپنے مخلص اور برگزیدہ بندوں کو قبل از وقت ایک واقعہ سے مطلع کر دیتا ہے۔اور یہ اس کا فضل ہوتا ہے تا کہ وہ اس کے لئے تیار ہو جائیں۔واقعہ بشیر اوّل جس طرح عصمت کی پیدائش اور موت پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ایک ابتلا سے گزرنا پڑا اور آپ نے اپنے ثبات قدم اور صدق و وفا کا ایک کامل نمونہ دکھایا اس طرح پر بشیر اول کی وفات پرتو وہ طوفان بے تمیزی پیدا ہوا کہ اگر کوئی دوسرا شخص ہوتا اور خدا کی تائید اور اس کی نصرت اس کے ساتھ نہ ہوتی اور خدا کی مقادیر سے کامل صلح نہ ہوتی اور اس پر کامل اور زندہ ایمان نہ ہوتا تو شاید خودکشی کر لیتا۔ہر طرف سے مخالفت کا ایک طوفان برپا کیا گیا اور کثرت سے اشتہارات اور خطوط مخالفوں نے شائع کئے۔مجھ کو یہاں ان تمام حالات کا ذکر کرنا مقصود نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے ایک مصلح موعود کی بشارت دی تھی۔اس عظیم الشان مولود کے متعلق حضرت اقدس منتظر تھے۔اعلان کے بعد عصمت پیدا ہوئی اور اس پر ایک طوفان بے تمیزی بر پا ہوا۔حضرت اقدس کے پائے ثبات کو اس سے کوئی تزلزل نہیں ہوا۔یہ امر اس اشتہار سے بخوبی ظاہر ہے جو اشتہار محک اخیارو الاشرار“ کے عنوان سے ریاض ہند پریس امرتسر میں چھپوا کر شائع کیا چنا نچہ آپ اس میں لکھتے ہیں۔”ہم نے اُلفت میں تری بارا ٹھایا کیا کیا تجھ کو دکھلا کے فلک نے ہے دکھایا کیا کیا ہر ایک مومن اور پاک باطن اپنے ذاتی تجربہ سے اس بات کا گواہ ہے کہ جولوگ صدقِ دل سے اپنے مولیٰ کریم جَلَّ شَانُہ سے کامل وفاداری اختیار کرتے ہیں وہ اپنے ایمان اور صبر کے اندازہ پر مصیبتوں میں ڈالے جاتے ہیں اور سخت سخت آزمائشوں میں مبتلا ہوتے ہیں۔ان کو بد باطن لوگوں سے بہت کچھ رنج وہ باتیں سنی پڑتی ہیں اور انواع واقسام کے مصائب و شدائد کو اٹھانا پڑتا ہے اور نا اہل لوگ طرح طرح کے منصوبے اور رنگ رنگ کے بہتان ان کے حق میں باندھتے ہیں اور اُن کے نابود کرنے کی فکر میں