سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 206 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 206

سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۰۶ دوسرا خط تعزیت بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلَّى عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ مند و می مکرمی اخویم منشی رستم علی صاحب سَلَّمَهُ تَعَالَى السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ عنایت نامہ پہنچا۔اس عاجز کے ساتھ ربط ملاقات پیدا کرنے سے فائدہ یہ ہے کہ اپنی زندگی کو بدلا دیا جائے تا عاقبت درست ہو۔سند رداس کی وفات کے زیادہ غم سے آپ کو پر ہیز کرنا چاہیے۔خدا تعالیٰ کا ہر ایک کام انسان کی بھلائی کے لئے ہے گو انسان اس کو سمجھے یا نہ سمجھے۔جب ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بعثت کے بعد بیعت ایمان لینا شروع کیا تو اس بیعت میں یہ داخل تھا کہ اپنا حقیقی دوست خدا تعالیٰ کو ٹھہرایا جائے اور اس کے ضمن میں اس کے نبی اور درجہ بدرجہ تمام صلحاء کو اور بغیر علت دینی کے کسی کو دوست نہ سمجھا جائے یہی اسلام ہے جس سے آجکل لوگ بے خبر ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَالَّذِينَ آمَنُوا أَشَدُّ حُبًّا لِلَّهِ (البقرة: ۱۱۲) یعنی ایمانداروں کا کامل دوست خدا ہی ہوتا ہے وبس۔جس حالت میں انسان پر خدا تعالیٰ کے سوا اور کسی کا حق نہیں تو اس لئے خالص دوستی محض خدا تعالیٰ کا حق ہے۔صوفیاء کو اس میں اختلاف ہے۔کہ جو مثلاً غیر سے اپنی محبت کو عشق تک پہنچاتا ہے اس کی نسبت کیا حکم ہے؟ اکثر یہی کہتے ہیں کہ اس کی حالت حکم کفر کا رکھتی ہے گو احکام کفر کے اس پر صادر نہیں ہو سکتے۔کیونکہ باعث بے اختیاری مرفوع القلم ہے تاہم اس کی حالت کفر کی صورت میں ہے کیونکہ عشق اور محبت حق الله جل شانہ کا ہے اور وہ بددیانتی کی راہ سے خدا تعالیٰ کا حق دوسرے کو دیتا ہے اور یہ ایک ایسی صورت ہے جس میں دین اور دنیا دونوں کے وبال کا خطرہ ہے۔راست بازوں نے اپنے پیارے بیٹوں کو اپنے ہاتھ سے ذبح کیا۔اپنی جانیں خدا تعالیٰ کی راہ