سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 191
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام عنایت الرحمٰن کی عیادت ۱۹۱ حضرت مفتی صاحب کا سب سے بڑا لڑکا جو پہلا لڑ کا کہنا چاہئے بہرا اور گونگا تھا۔اسی طرح دوسرالڑ کا بھی۔پہلالڑ کا تو پیدائشی ہی مریض تھا مگر دوسرا لڑکا جس کا نام عنایت الرحمن تھا اچھا خاصہ تندرست تھا مگر نہ سنتا تھانہ بولتا تھا۔یہ لڑ کا جب ساڑھے چار سال کا تھا اور سخت بیار ہو گیا۔یعنی اس کو ٹائی فائیڈ فیور (Typhoid Fever) ہو گیا تو حضور علیہ السلام اکثر اس کی علالت کے ایام میں اس کو دیکھنے کے لئے آتے تھے اور ہمیشہ تنہا تشریف لاتے تھے اور بچہ کو دیکھ کر مناسب تجاویز بتلا کر تشریف لے جاتے تھے۔مفتی صاحب ان ایام میں گورداس پور کے مقدمہ میں تاریخوں پر حضرت کے ساتھ جایا کرتے تھے۔جس روز آخری دفعہ حضور گورداسپور تشریف لے جانے لگے اور گھر سے نکل کر اس بچہ کو جا کر دیکھا تو اس کی حالت کو نازک پایا تو آپ نے باہر آ کر مفتی صاحب کو فرمایا کہ آج گورداسپور نہ جاویں یہیں ٹھہریں۔چنانچہ آپ تشریف لے گئے۔دوسرے دن صبح بچہ فوت ہو گیا۔عنایت الرحمن کی تعزیت اس سے دوسرے دن آپ گورداسپور سے تشریف لے آئے تو مفتی صاحب چھوٹی لڑکی حفیظہ کو اٹھائے ہوئے حضور کو مہمان خانہ کے قریب جا کر ملے تو آپ نے فرمایا۔میں نے آپ کے بچہ کی وفات سنی بہت رنج ہوا۔میں نے آپ کے لئے بہت دعا کی ہے اللہ تعالیٰ آپ کو نعم البدل عطا فرمادے گا اور وہ سننے اور بولنے والا ہوگا۔لطیفہ: یہاں مفتی صاحب نے عرض کیا کہ حضور میرے گھر میں دولڑ کیاں اور دولڑ کے پیدا کرنے ہیں۔اب یہ لڑکی ہے اس کے بعد اگر دوسری لڑکی ہوئی تو نعم البدل نہ ہوگا اگر لڑکا ہوگا تو نعم البدل سمجھوں گا۔آپ نے مسکرا کر فرمایا کہ میاں ہمارے خدا میں تو یہ بھی طاقت ہے کہ آئندہ لڑکیوں کا سلسلہ ہی منقطع ہو جاوے۔چنانچہ مولا کریم کے قربان جاؤں۔اس کے بعد مفتی صاحب