سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 190
برت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۹۰ کی خدمت میں دن رات مصروف رہیں تو بالکل ناممکن تھا بلکہ اتنے لمبے عرصہ کے لئے ایک دفعہ دن میں بھی کسی لائق ڈاکٹر کو دکھانا مشکل تھا۔“ الحکم مورخه ۱ / فروری ۱۹۰۶ صفحه ۴ ، ۵ ) غرض حضرت مسیح موعود عیادت کے لئے ہمیشہ آمادہ رہتے تھے اور آپ نے اپنے عمل سے ثابت کیا کہ آپ سے بڑھ کر مریضوں کا خیر خواہ اور ہمدرد دوسرا بہت ہی کم ہوگا۔مفتی فضل الرحمن صاحب کے واقعات ,, مفتی فضل الرحمن صاحب کے نام سے احمد یہ پبلک یقیناً واقف ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ اور آپ کے اہل بیت کے ساتھ ان کو خاص طور پر محبت اور ارادت ہے مفتی صاحب کی جب شادی کی تجویز ہوئی اور خلیفہ اول نے حضرت کو لکھا تو حضرت نے اسے بہت ہی پسند فرمایا اور یہ بھی لکھا کہ مفتی صاحب کے متعلق مجھے الہام ہوا سیھدی “ چنانچہ حضرت کے مشورہ کے ماتحت حضرت حکیم الامت نے اپنی لڑکی حفصہ کا رشتہ مفتی صاحب سے کر دیا۔مفتی صاحب حضرت حکیم الامت کے بھتیجے بھی ہیں کیونکہ وہ مفتی صاحب کے پھوپھا تھے۔شادی کے بعد قریب زمانہ ہی سے مفتی صاحب قادیان آگئے۔اور خدا تعالیٰ نے ان کو صاحب اولا د کیا۔حضرت مسیح موعود کے ارشاد اور مشورہ سے چونکہ رشتہ ہوا تھا حضرت صاحب کو خاص طور پر خیال رہتا تھا۔مفتی صاحب کے گھر سے اور حضرت مولوی صاحب مرحوم خلیفہ اول کے بڑے گھر کے اخلاص کی وجہ سے بھی حضرت صاحب بہت محبت اور عزت کی نظر سے دیکھتے تھے اور چونکہ مفتی صاحب کی ساس یعنی حضرت خلیفہ اول کی بڑی بیوی اول المهاجرات میں سے تھے اور سلسلہ کے ساتھ ان کو خاص محبت تھی اس لئے حضور علیہ السلام بھی ان پر بہت نظر محبت رکھتے تھے۔مفتی فضل الرحمن صاحب کی خوش دامن ان کی پھوپھی بھی تھی۔چونکہ ان کے اولاد نرینہ نہ تھی اس لئے اپنی لڑکی حفصہ کو جو مفتی فضل الرحمن صاحب کی بیوی تھی اپنے پاس ہی رکھتی تھیں۔حفصہ کو بھی حضور علیہ السلام سے بڑا اعتقاد اور محبت تھی جیسا کہ مفتی صاحب نے اس کی سوانح عمری میں مفصل بیان کیا ہے۔