سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 189 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 189

سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۸۹ رفیق کی رفاقت اور آخر خدمت میں حصہ لیا۔اللہ تعالیٰ ان کو جزائے خیر دے۔آمین۔(۲) علاج مولوی صاحب کے علاج کے لئے دو اسسٹنٹ سرجن یعنی خاکسار اور ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب اور حضرت مولوی حکیم نورالدین صاحب جو خدا کے فضل سے اپنے علم اور تجربہ کی رو سے یکتائے دہر ہیں ہر وقت موجود رہتے تھے۔ڈاکٹر محمد حسین صاحب اسٹنٹ سرجن واسسٹنٹ پروفیسر میڈیکل کالج لاہور اور ڈاکٹر قاضی کرم الہی صاحب امرتسر سے مشورہ کے لئے تشریف لاتے اور مولوی صاحب کے لئے ہر ایک قسم کی دوائی اور عمل جراحی کے لئے اوزار قادیان جیسی جگہ میں بہم پہنچاتے۔یہاں تک کہ ایک اوزار منگوایا تا کہ مولوی صاحب کو کلور و فارم سنگھانے کی ضرورت نہ رہے اور اس سے جگہ بے حس کر کے آپریشن کئے جاویں۔چنانچہ بعد میں دوسرے کار بنکل ودنبل وغیرہ پر آپریشن کرنے میں اس سے بہت مدد لی۔یہ ایسا اوزار ہے کہ اکثر ہسپتالوں میں بھی موجود نہیں ہوتا۔حضرت اقدس نے مولوی صاحب کے علاج میں کثرت سے روپیہ خرچ کیا اور کوئی ایسی چیز باقی نہ رہ گئی تھی کہ جس کی نسبت خیال بھی ہو سکے کہ مولوی صاحب کے علاج کے لئے مفید ہوگی اور ان کے لئے باہم نہ پہنچائی گئی ہو۔اور مولوی صاحب کی یہ کیسی خوش قسمتی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے ہر ایک سامان باہم پہنچایا اور ان کے لئے جو کوشش کی گئی کسی راجہ یا نواب کے نصیب ہو تو ہو ورنہ عام امراء کے لئے بھی اس قد رکوشش ہونی محالات سے ہے اور یہ سب کچھ حضرت مسیح موعود کی برکت سے تھا ورنہ مجھے خوب یاد ہے کہ ان کے والد صاحب فرماتے تھے۔اگر ہم اپنی تمام جائیداد بھی نیلام کر دیتے اور چاہتے کہ ہمارے بیٹے کا اس قدر ڈاکٹر اور حکیم علاج کرتے رہیں اور ان