سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 181
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۸۱ یعقوب بیگ صاحب تین ماہ کی رخصت لے کر آئے تھے۔انہوں نے مکرمی ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب کی مدد سے اپریشن کیا۔متعدد مرتبہ اپریشن کی ضرورت پیش آئی اور بعض اوقات سخت نازک حالت ہوگئی اور ایسی نوبت آئی کہ اس سے جانبر ہونا طبی فتوی کی رو سے ناممکن تھا۔مگر حضرت اقدس کی دعاؤں کے طفیل وہ جانبر ہو گئے۔۴ ستمبر ۱۹۰۵ء کو یہی حالت تھی ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب نے اس حالت کا اظہار ان الفاظ میں کیا۔اپریشن کے بعد قریباً شام تک میں مولوی صاحب کے پاس بیٹھا رہا ، ہاتھ پاؤں بالکل سرد ہو گئے نبض بالکل کمزور تھی اور باقاعدہ نہ چلتی تھی کسی وقت ایک دوحرکتیں دل کی بالکل ساقط ہو جاتی تھیں گویا کہ دل حرکت کرتے کرتے رک جاتا تھا۔ہوش نہ تھا اور اس کے علاوہ پیٹ میں نفخ بہت تھا۔اصل میں مولوی صاحب کو ذیا بیطیس کی وجہ سے عام کمزوری بہت تھی اس کے علاوہ شدت دردوکرب کی وجہ سے کئی دن سے غذا اندر نہ گئی تھی اس پر اپریشن بڑا بھاری ہوا بہت سا خون گیا۔کلوروفارم بہت سی مقدار میں سونگھنا پڑا اس لئے ان کی حالت بہت نازک ہو گئی تھی۔ہم نے ہر قسم کا علاج کیا کہ دل اپنی اصلی حالت پر آ کر ہوش آئے مگر کوئی بات کارگر نہ ہوئی اور ان کی عام حالت نیچے ہی نیچے جاتی تھی۔ہمارے عزیز بھائی ڈاکٹر سید محمد حسین صاحب اسٹنٹ سرجن پروفیسر میڈیکل کالج لاہور بھی قریب چار بجے کے قریب تشریف لائے وہ بھی اُن کی حالت دیکھ کر سخت پریشان و حیران ہوئے اور انہوں نے کہا کہ بظاہر ان کے بچنے کی کوئی صورت نہیں معلوم ہوتی۔حضرت اقدس گھڑی گھڑی مولوی صاحب کا حال دریافت کرتے تھے۔آپ کی خدمت میں ان کی نازک حالت کی اطلاع دی گئی تو اس کی خبر سننے سے جیسے کہ ایک حقیقی غم گسار اور بچے شفیق کو صدمہ ہوتا ہے آپ کو صدمہ محسوس ہوا اور جیسے کے والدین کو اپنے عزیز بیٹے کے لئے ایک تڑپ اور اضطراب ہوتا ہے واللہ کہ ہم نے اس سے زیادہ اس