سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 180
سیرت ، حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۸۰ فرمائے اور آپ کی عمر دراز کرے۔آمین ثم آمین۔جلد کامل صحت سے مجھے اطلاع بخشیں۔خاکسار مرزا غلام احمد از قادیان ۲۴ اکتوبر ۱۸۹۹ء (سیرت حضرت مسیح موعود مصنفہ حضرت مولانا عبدالکریم سیالکوٹی صفحہ ۴۵، ۴۶۔یہ خط الحکم ۲۴ جنوری ۱۹۰۰ء صفحہ ۵ پر بھی شائع شدہ ہے) حضرت مولوی صاحب کو اللہ تعالیٰ نے آپ کی اس دعا سے شفا بخشی اور وہ پھر جلد قادیان تشریف لے آئے اور قادیان سے پھر واپس نہ گئے۔یہ خط بہت سے ضروری امور پر روشنی ڈالتا ہے۔۱۸۹۹ء کے آخر تک حضرت اقدس اپنی جماعت میں جن پاک ہستیوں کو خدا تعالیٰ کی راہ میں کامل فدائی یقین کرتے تھے وہ دوہی وجود تھے حکیم الامت اور مخدوم الملت۔باوجود یکہ اس وقت مولوی محمد علی صاحب اور خواجہ کمال الدین صاحب اور مولوی محمد احسن امروہی موجود تھے۔یہ ایک نکتہ معرفت ہے۔سیرت کے اس مقام پر میں زیادہ بحث اس پر نہیں کرنا چاہتا۔غرض خطوط کے ذریعہ آپ اکثر عیادت کرتے رہتے تھے اور قادیان میں اگر کوئی شخص ایسا بیمار ہو جس کے ساتھ تعلقات اخلاص و ارادت مضبوط ہوں اور اسے خدا تعالیٰ کے لئے ایک متقی و مومن پائیں آپ اس کی عیادت سے پر ہیز نہ کرتے۔اور عام ہمدردی کے طور پر بھی بلا امتیاز ہندو و مسلمان عیادت کرتے تھے۔لیکن بعض اوقات آپ اپنے قلب کی رقت کی وجہ سے خود جا کر نہ دیکھ سکتے تھے۔مگر اس کے علاج میں تگ و دو اور سعی میں ذرا بھی فرق نہ کرتے تھے۔یہ نظارہ حضرت مولوی عبد الکریم صاحب رضی اللہ عنہ کی اُس علالت میں کمال صفائی سے دیکھنے میں آیا جو بالآخران کی موت کا موجب ہوئی۔مولوی عبد الکریم صاحب کی آخری علالت حضرت مولوی عبد الکریم صاحب اگست ۱۹۰۵ء کے تیسرے ہفتہ میں یکا یک بیمار ہوئے اور ایک چھوٹی سی پھنسی بَيْنَ الْكَتفَینِ ظاہر ہوئی جو بالآخر کا ر بنکل تشخیص ہوئی۔اتفاق سے ڈاکٹر مرزا