سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 170 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 170

سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۷۰ معذور بزرگ مجھ کو دبانے کے لئے بیٹھ گیا۔اب صبح ہو رہی تھی اور تمام قافلہ قادیان کو روانہ ہورہا تھا جوں جوں وقت قریب آتا جاتا میری جان گھٹی جارہی تھی مگر حضرت کو خاص طور پر توجہ تھی۔میں نے عرض کیا حضور یا تو مجھے ساتھ لے جائیں یا لاہور پہنچا دیں۔میں درد سے اس قدر بے قرار تھا اور میری حالت ایسی نازک معلوم ہوتی تھی کہ گویا موت اپنی طرف کھینچ رہی ہے۔آپ میری گھبراہٹ پر بار بار تسلی دیتے اور فرماتے کہ نہیں میں سب انتظام کر کے جاؤں گا اور تم کو آرام آجائے گا اور اگر کہو گے تو میں آج نہیں جاؤں گا۔میں آپ کی اس شفقت و عنایت کو دیکھتا اور شرمندہ ہوتا تھا۔آخر قرار پایا کہ حکیم فضل دین صاحب اور میاں اللہ دیا جلد ساز لودہانہ کو میرے پاس چھوڑا جاوے اور باقی قافلہ قادیان کو روانہ ہو جائے۔روانگی کے وقت تک مجھ کو ایک دوا جابت ہو کر کچھ آرام ہو چلا تھا۔آپ نے حکیم صاحب کو خاص طور پر تاکید کی کہ دیکھو کوئی تکلیف نہ ہو اور آپ نے ایک خاص رقم حکیم صاحب کے حوالہ کی تا کہ کوئی دقت نہ ہو اور جب مجھے آرام ہو جائے تو قادیان لے کر آویں چنانچہ دوسری گاڑی کی روانگی تک اگر چہ میں اس قابل تو نہ تھا کہ قادیان کو روانہ ہوسکوں مگر میرے لئے وہاں ٹھہر نا بھی موت سے کم نہ تھا۔اس لئے میں حکیم صاحب اور میاں اللہ دیا صاحب کے ہمراہ قادیان کو چلا آیا۔قادیان پہنچنے پر مجھے دو دن تک تکلیف اور ضعف رہا۔حضرت اقدس برابر دریافت فرماتے رہے اور ہر طرح تستی اور اطمینان دلاتے رہے۔واقعہ بالکل صاف اور سادہ ہے مگر جب انسان اس کو اس رنگ میں دیکھے کہ میری کوئی شخصیت اور اثر نہ تھا۔میں خادم اور ادنی خادم تھا۔میری علالت کا آپ نے اس طرح احساس کیا جس طرح پر اپنے کسی عزیز سے عزیز وجود کا۔اور اس کے لئے اپنے آرام اور اپنے مال کی قربانی کو نہایت ہی حقیر سمجھا۔یہ بات میری کسی قابلیت کی وجہ سے نہ تھی بلکہ محض ہمدردی کا نتیجہ اور نمونہ تھی جو آپ کو ہر شخص سے تھی۔کوئی بھی بیمار ہو اس کے لئے آپ کے دل میں ایسا ہی جوش ہمدردی اور محبت کا تھا اور محض خدا کی مخلوق پر شفقت کے رنگ میں ہوتا تھا اور اس کی ہی رضا کے لئے۔چنانچہ ذیل میں ایک واقعہ