سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 171 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 171

سیرت حضرت مسیح موعود علیہا 121 میں بیان کرتا ہوں جس سے معلوم ہوگا کہ وہ شخص جو کبھی کسی پر بڑے سے بڑے نقصان پر ناراض نہ ہوتا تھا بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ ناراض ہونا جانتا ہی نہ تھا وہ اپنے ایک خادم پر محض اس وجہ سے ناراض ہوتا ہے کہ اس نے ایک بیمار کی تیمارداری میں کیوں غفلت کی ؟ چنانچہ ذیل کے واقعہ سے اس کی حقیقت عیاں ہو جائے گی اور اس سے صاف کھل جاتا ہے کہ مخلوق خدا کی غمگساری حالت علالت میں آپ کے دل میں کس قدر تھی۔پیرا پہاڑیا کی علالت پر خان صاحب اکبر خان صاحب پر خفگی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خادموں میں ایک شخص پیرا پہاڑ یا تھا جو ضلع کانگڑہ کا باشندہ تھا۔وہ آپ کی بعثت اور ماموریت سے پہلے قادیان میں آیا اور حضرت اقدس کی خدمت میں بحیثیت ایک خادم کے رہنے لگا۔اس کی حالت ایک نیم وحشی کیسی تھی۔وہ ہر ایک قسم کے آداب اور انسانیت کے معمولی لوازم سے بھی ناواقف تھا۔مگر حضرت اقدس کو کبھی اُس پر ناراض ہونے کا موقع نہ ملا۔یہ امر میں کسی دوسرے موقع پر شاید ذکر کروں گا۔وہ بیمار ہو گیا اور اسے طاعون ہوا۔اس کو حسب دستور سیر یکیشن کیمپ میں پہنچا دیا گیا۔حضرت اقدس نے خان صاحب اکبر خان صاحب سنوری کو خصوصیت سے اس کی تیمار داری اور ضروری انتظام متعلق علاج کے لئے مقرر کیا۔حضرت اقدس کی خدمت میں ڈاکٹر قاضی محبوب عالم صاحب جے پور سے نہایت اعلیٰ درجہ کا عرق کیوڑہ بھیجا کرتے تھے اور ایک کافی مقدار حضرت کے پاس موجود تھی۔یہ عرق نہایت قیمتی ہوتا تھا۔آپ نے اس کی بوتلیں خان صاحب کے سپرد کیں اور چند ہدایات دیں جن میں سے ایک یہ بھی تھی کہ وہ اس کی گلٹی پر جونکیں لگوادیں، اس کے علاج میں کسی خرچ کا مضائقہ نہ کیا جاوے۔بار بار اس کی خیریت کی خبر دریافت کرتے تھے۔خان صاحب نے جونکوں والے کو تلاش کیا مگر وہ جو نہیں مہیا نہ کر سکا۔اس طرح پر اس کی تعمیل