سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 168 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 168

برت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۶۸ راہ پر قدم مارتا ہے اور آپ کا سچا مرید ہے اس کو طاعون نہ چھوئے گی۔لیکن میں ہی نابکار نکلا جو احمد یوں میں سے طاعون میں مبتلا ہوا حالانکہ ہندوؤں اور غیر احمدیوں میں سے بچیں چھپیں آدمی روز مرے۔لیکن باوجود اس امر کے کہ میرا وجود بد نام کنندہ نکو نامے چند تھا تا ہم حضرت کی خدمت میں مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم نے عرض کیا کہ اس کا باپ بھی اس کو لینے آیا تھا لیکن اس نے قادیان چھوڑ نا پسند نہیں کیا۔حضرت نے باوجود اس سخت کمزوری کے میرے لئے دعا کی اور دوا بھی خود ہی تجویز فرمائی چنانچہ مجھے معلوم ہوا کہ حضور خود کمال مہربانی سے اپنے ہاتھوں روزانہ دوائی تیار کر کے بھیجتے ہیں اور دو تین وقت روزانہ میری خبر منگواتے ، یہ کمال شفقت ایک گمنام شخص کے لئے جو نہ دنیوی اور دینی لیاقت رکھتا نہ کوئی دینی یا دنیوی وجاہت ایک ادنی اور ذلیل خادموں میں سے تھا۔میرا ایمان ہے کہ میں آپ کی دعاؤں سے ہی بچ گیا ورنہ جن دنوں میں بیمار ہوا طاعونی مادہ ایسا زہریلا تھا کہ شاذ ہی لوگ بچتے تھے۔میرے لئے یہ اخلاق کریمانہ قولی اور فعلی ایسے تھے کہ نقش کا لحجر۔مجھے یہ محبت و شفقت اپنے گھر میں ڈھونڈنے سے بھی نہ ملی تھی اس لئے میں تو گرویدہ حسن واحسان ہو گیا۔اب میری یہی دعا ہے کہ میرا انجام بخیر ہو جائے۔میں اپنے اس محسن و محبوب سے مر کر بھی جدا نہ ہوں۔آمِين يَا رَبَّ الْعَالَمِين“ میرا ذاتی واقعہ آغاز ۱۸۹۸ء میں اللہ تعالیٰ نے مجھ کو تو فیق دی کہ میں ہجرت کر کے قادیان آ گیا اور دنیا کی بہتری کی آئندہ امیدوں کو جو ملازمت کے سلسلہ سے وابستہ تھیں خدا کی رضا کے لئے میں نے چھوڑ دیا۔الحکم ( جو امرتسر میں جاری کیا گیا تھا اور جس کا مستقل ہیڈ کوارٹر لاہور تجویز کیا گیا تھا ) قادیان میں منتقل کر لیا۔اس سال کے آخر میں حضرت مسیح موعود نے ۲۱ نومبر ۱۸۹۸ء کو ایک اشتہار مولوی محمد حسین بٹالوی اور اس کے دو ہمراز رفیقوں زیتی اور تبتی کے متعلق شائع کیا۔مولوی محمد حسین نے