سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 161
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۶۱ لالہ شرمپت رائے کی عیادت لالہ شرم پت رائے کا ذکر اس سیرت وسواخ میں بار بار آتا ہے اور آئے گا۔وہ قادیان کے رہنے والے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں آپ کی بعثت کے ایام سے بھی پہلے آیا کرتے تھے اور آپ کے بہت سے نشانات کے وہ گواہ تھے اور باوجود بار بار کے مطالبوں کے کبھی انہوں نے مؤکد بہ عذاب حلف کر کے انکار نہ کیا۔ایک مرتبہ وہ بیمار ہوئے مجھے اس وقت قادیان ہجرت کر کے آجانے کی سعادت حاصل ہو چکی تھی ان کے شکم پر ایک پھوڑا ہوا اور اس دنبل نے نہایت خطرناک شکل اختیار کی۔حضرت اقدس کو اطلاع ہوئی۔آپ خود لالہ شرمیت رائے کے مکان پر جو نہایت تنگ و تار تھا تشریف لے گئے آپ کے ساتھ اکثر دوست تھے اور راقم الحروف بھی تھا۔لالہ شرمپت رائے صاحب کو آپ نے جا کر دیکھا وہ نہایت گھبرائے ہوئے تھے۔ان کو اپنی موت کا یقین ہو رہا تھا۔بے قراری سے ایسی باتیں کر رہے تھے جیسا کہ ایک پریشان انسان ہو۔حضرت صاحب نے اس کو بہت تسلی دی اور فرمایا کہ گھبراؤ نہیں میں ڈاکٹر عبداللہ صاحب کو مقرر کر دیتا ہوں وہ اچھی طرح علاج کریں گے۔اس وقت قادیان میں ڈاکٹر صاحب ہی ڈاکٹری کے لحاظ سے اکیلے اور بڑے ڈاکٹر تھے۔چنانچہ دوسرے دن حضرت اقدس ڈاکٹر صاحب کو ساتھ لے گئے اور ان کو خصوصیت کے ساتھ لالہ شرمیت رائے کے علاج پر مامور کر دیا اور اس علاج کا کوئی بار لالہ صاحب پر نہیں ڈالا گیا۔آپ روزانہ بلا ناغہ ان کی عیادت کو جاتے اور جب زخم مندمل ہونے لگا اور ان کی وہ نازک حالت عمدہ حالت میں تبدیل ہوگئی تو آپ نے وقفہ سے جانا شروع کر دیا مگر اس کی عیادت کے سلسلہ کو اس وقت تک جاری رکھا جب تک کہ وہ بالکل اچھا ہو گیا۔آپ کی عادت تھی کہ جب آپ تشریف لے جاتے تو ہنستے ہوئے اس کے گھر میں داخل ہوتے۔یعنی جیسی متبسم صورت تھی۔اس ہنسی اور کشادہ پیشانی کا ایک اثر ساتھ والوں اور مریض پر پڑتا اور اس کو بہت کچھ تسلی دیتے اور فرماتے فکر نہ کرو میں دعا کرتا ہوں تم اچھے ہو جاؤ گے۔اورخود لالہ شرمپت رائے کی بھی یہ حالت تھی کہ وہ ہمیشہ جب حضرت صاحب تشریف لے جاتے تو کہتا تھا