سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 160
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام شکوک کا محل ضرور ہوسکتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں آپ کے اس خلق کا مشاہدہ بھی ایسا مؤثر اور دلگداز ہے کہ انسان کو حیران کئے بغیر نہیں رہتا۔خود ان مریضوں نے جن کی عیادت و ہمدردی کے لئے آپ نے قدم اٹھایا اس کا احساس کیا اور شکر گزاری کی روح ان کے اندر سے بول اٹھی ہے۔حضرت مسیح موعود رقیق القلب تھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام با وجود اس قوت اور شجاعت اور اطمینان کے جو آپ کے قلب میں پایا جا تا تھا رقیق القلب بھی بہت تھے اور بعض اوقات اپنے خدام اور دوستوں کی تکلیف کو دیکھ نہ سکتے تھے۔یہ رقیق القلبی کسی کمزوری کا نتیجہ ہ تھی بلکہ انتہائی ہمدردی اور محبت کا ثمر تھی جو وہ اپنے خدام سے رکھتے تھے۔مصائب اور مشکلات میں آپ ایک کوہ وقار تھے جیسا کے اس کا ذکر الگ باب میں ہو گا۔لیکن جہاں آپ کی ہمدردی اور جوش خیر خواہی زور پر ہوتا تھا وہاں وہ کسی کے دکھ کو دیکھ نہ سکتے تھے۔آپ کی اس فطرت کا اظہار حضرت مولوی عبد الکریم رضی اللہ عنہ کی بیماری میں پورے کمال سے دیکھا گیا اور اس کا ذکر بھی میں اسی باب میں دوسری جگہ انشاء اللہ العزیز کرنے والا ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام باوجود رقیق القلب ہونے کے پھر بھی عیادت کو تشریف لے جاتے تھے اور اس عیادت میں دوست ، دشمن ، مومن ، کافر کی تخصیص نہ تھی اور یہی کیفیت حضرت سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک زندگی میں نظر آتی تھی۔اب میں واقعات اور حالات کو بیان کر کے بتاؤں گا کہ آپ کی عیادت میں یہ امتیاز اور تفرقہ نہ تھا اور صرف اسی ایک خلق میں نہیں بلکہ آپ تَخَلَّقُوا بِاخْلَاقِ اللهِ پر عمل کر کے ربوبیت عامہ کے ان فیوض اور فیضانوں کا پر تو ڈالتے تھے جو انسان ربوبیت کی چادر کے نیچے آکر ڈال سکتا ہے اور سب سے زیادہ اس سے رنگین وہی لوگ ہوتے ہیں جو خدا تعالیٰ کی طرف سے اصلاح حق کے لئے مامور ہو کر آتے ہیں۔بہر حال آپ اس خلق کے اظہار میں کبھی کسی قسم کا تفرقہ اور امتیاز نہ کرتے تھے۔بلکہ آپ کا یہ فیضان عام نہیں بلکہ اعم تھا جیسا کہ واقعات بتائیں گے۔