سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 159 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 159

سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۵۹ عیادت و تعزیت انسان پر ایک وقت ایسا بھی آجاتا ہے جبکہ وہ کسی نہ کسی قانون صحت کی خلاف ورزی کی وجہ سے بیمار ہو جاتا ہے اس وقت اس کی حالت عجیب ہوتی ہے۔بیماری انسان کو اپنی کمزوری اور بے بسی کا یقین دلا دیتی ہے اور موت کو اُس کے سامنے لاکھڑا کر دیتی ہے۔اس وقت جبکہ وہ طاقتوں اور اختیارات کو جاتے دیکھتا ہے تو انسانی ہمدردی اور دلجوئی کا از بس محتاج ہوتا ہے۔اور اس کی حالت حقیقت میں اس بچہ سے کم نہیں ہوتی جس کی زندگی کی ہر ضرورت دوسروں کے سہارے اور آسرے پر ہوتی ہے۔بلکہ اس سے کسی قدر بدتر ہوتی ہے کہ اسے اپنی بے بسی کے شعور کے ساتھ ایک کرب اور تکلیف بھی ہوتی ہے۔بیماری جہاں خود بیمار کے اخلاق اور ایمان کے لئے ایک معیار ہوتی ہے اسی طرح دوسرے لوگوں کے اخلاق اور ہمدردی عامہ کے پر کھنے کا بھی ایک ذریعہ ہے۔بیماروں کی عیادت کرنا حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔اس خلق کا تعلق مواسات عامہ سے ہے۔انسان اپنے رشتہ داروں ، عزیزوں ، بزرگوں یا ان لوگوں کی عیادت کرنے یا بیماری میں ان کی ممکن خدمت کرنے سے مضایقہ نہیں کرتا جہاں کسی نہ کسی نفع ذاتی کی امید ہو یا یہ عیادت و تیمارداری کبھی خوشامد کے رنگ میں ہوتی ہے اور کبھی بعض اور اغراض ذاتیہ کے ماتحت۔لیکن محض خدا کی رضا کے لئے بیماروں کی بیمار پرسی یا اُن کے علاج میں سعی کرنا محض ان لوگوں کا کام ہے جن کے قلوب کو خدا تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے صاف کیا ہو اور اس کا صحیح اندازہ اس وقت ہو سکتا ہے جبکہ عیادت کرنے والے اور مریض کے تعلقات اور مراتب کا پتہ لگ جاوے مثلاً اگر ایک آقا اپنے غلام کی عیادت کے لئے جا رہا ہے تو صاف معلوم ہوگا کہ اس کو جو چیز لے جارہی ہے وہ محض خدا کی مخلوق سے ہمدردی ہے۔تب ہی تو وہ نمائش اور تکلف کے مقام سے اُتر کر اس کی طرف قدم بڑھا رہا ہے اور اگر کوئی چھوٹے درجہ کا آدمی کسی بڑے آدمی کی عیادت کے لئے جا رہا ہے تو یہ ناممکن نہیں کہ وہ محض اخلاص اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل کے خیال سے نہ جار رہا ہو لیکن اس کا یہ فعل مختلف قسم کے