سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 145
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۴۵ حصّہ اوّل بلکہ فرمایا کرتے تھے کہ ابھی کچھ دن اور رہو آپ کے جو پرانے خدام ہوتے تھے ان کے ساتھ خصوصیت سے یہی برتا ؤ ہوتا تھا۔ایک مرتبہ حضرت منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی یہاں آئے وہ ان دنوں میں مجسٹریٹی کے ریڈر تھے وہ ایک دو دن کے لئے یونہی موقع نکال کر آئے تھے مگر جب اجازت مانگیں تو یہی ہوتا رہا کہ چلے جانا ابھی کون سی جلدی ہے اور اس طرح پر ان کو ایک لمبا عرصہ یہاں ہی رکھا۔اصل بات یہ ہے کہ آپ دل سے یہی چاہتے تھے کہ احباب زیادہ دیر تک ٹھہریں۔حضرت مولوی عبد الکریم صاحب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں ہمیشہ حضرت کی اس سیرت سے کہ بہت چاہتے ہیں کہ لوگ ان کے پاس رہیں۔یہ نتیجہ نکالا کرتا ہوں کہ یہ آپ کی صداقت کی بڑی بھاری دلیل ہے اور آپ کی روح کو کامل شعور ہے کہ آپ منجانب اللہ اور راست باز ہیں۔جھوٹا آدمی ایک دن میں گھبرا جاتا ہے اور وہ دوسروں کو دھکے دے کر نکالتا ہے کہ ایسا نہ ہو کہ اس کا پول کھل جائے۔(۴) آپ کی مہمان نوازی کی چوتھی خصوصیت یہ تھی کہ مہمان کے ساتھ تکلف کا برتاؤ نہیں ہوتا تھا بلکہ آپ اس سے بالکل بے تکلفانہ برتاؤ کرتے تھے۔اور وہ یقین کرتا تھا کہ وہ اپنے عزیزوں اور غمگسار دوستوں میں ہے۔اور اس طرح پر وہ تکلف کی تکلیف سے آزاد ہو جا تا تھا۔حضرت خلیفہ نورالدین صاحب آف جموں ( جو حضرت اقدس کے پرانے مخلصین میں سے ہیں اور جنہوں نے بعض اوقات سلسلہ کی خاص خدمات کی ہیں جیسے قبر مسیح کی تحقیقات کے لئے انہوں نے کشمیر کا سفر کیا اور اپنے خرچ پر ایک عرصہ تک وہاں رہ کر تمام حالات کو دریافت کیا ) بیان کرتے ہیں کہ جن ایام میں حضرت مولانا نورالدین صاحب رضی اللہ عنہ نواب صاحب کی درخواست پر مالیر کوٹلہ تشریف لے گئے تھے میں قادیان آیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا معمول تھا کہ مجھے دونوں وقت کھانے کے لئے او پر بلا لیتے اور میں اور آپ دونوں ہی مل کر کھانا کھاتے۔اور بعض اوقات گھنٹہ گھنٹہ ڈیڑھ ڈیڑھ گھنٹہ بیٹھے رہتے اور انوسینٹ ریکری ایشن ( تفریح بے ضرر ) بھی ہوتی رہتی۔ایک دن ایک چاء دانی چائے سے بھری ہوئی اٹھا لائے اور فرمایا کہ خلیفہ صاحب یہ تم نے پینی ہے یا میں نے۔