سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 124 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 124

سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۲۴ حصّہ اوّل انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعض اخلاق کا ذکر برادرم منشی محمد عبد اللہ بوتالوی سے کیا اور منشی محمد عبد اللہ صاحب نے مجھے لکھ کر بھیجا جو میں نے ۲۱ را پریل ۱۹۱۸ء کے الحکم میں سیرت المہدی کا ایک ورق کے عنوان سے چھاپ دیا۔اس میں اکرام ضیف کے عنوان کے نیچے یہ واقعہ درج ہے کہ: ایک مرتبہ ایک مہمان نے آ کر کہا کہ میرے پاس بستر ا نہیں ہے۔حضرت صاحب نے حافظ حامد علی صاحب کو (جو ۱۹۱۸ء میں مختصرسی دوکان قادیان میں کرتے تھے اور حضرت کے پرانے مخلص خادم تھے اور اب فوت ہو چکے ہیں اللهُمَّ ارْحَمْهُ) کہا کہ اس کو لحاف دے دو۔حافظ حامد علی صاحب نے عرض کیا کہ یہ شخص لحاف لے جائے گا۔وغیرہ وغیرہ۔اس پر حضرت نے فرمایا کہ اگر یہ لحاف لے جائے گا تو اس کا گناہ ہوگا اور اگر بغیر لحاف کے سردی سے مر گیا تو ہمارا گناہ ہوگا۔“ اس واقعہ سے ظاہر ہے کہ وہ مہمان بظا ہر کوئی ایسا آدمی نہ معلوم ہوتا تھا جو کسی دینی غرض کے لئے آیا ہو بلکہ شکل وصورت سے مشتبہ پایا جا تا تھا مگر آپ نے اس کی مہمان نوازی میں کوئی فرق نہیں کیا اور اس کی آسائش و آرام کو اپنے آرام پر مقدم کیا۔(۲) مہمان نوازی کے لئے ایثار کلی کی تعلیم ایک کہانی کے رنگ میں وہی صاحب حضرت مفتی صاحب کی روایت بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ مہمان کثرت سے آگئے۔بیوی صاحبہ (حضرت ام المومنین ) گھبرائیں۔( اس زمانہ میں مہمانوں کا کھانا سب اندر تیار ہوتا تھا اور تمام انتظام و انصرام اندر ہوتا تھا اس لئے گھبرا جانا معمولی بات تھی۔عرفانی) مجھے مفتی محمد صادق کو ) جو مکان حضرت صاحب نے دے رکھا تھا وہ بالکل نزدیک تھا۔( یہ وہ مکان ہے جہاں آج کل حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب رہتے ہیں۔اُس وقت یہ مکان نہایت شکستہ حالت میں تھا۔بعد میں خاکسار عرفانی نے اسے خرید لیا اور خدا نے اسے توفیق دی کہ اس کا 1/3 حصہ حضرت اقدس کے نام