سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 121 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 121

سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۲۱ حصّہ اوّل اکرام ضيف اکرام ضیف یعنی مہمان نوازی ان اخلاق فاضلہ میں سے ہے جو سوسائٹی اور تمدن کے لئے بمنزلہ روح کے ہیں۔مہمان نوازی سوسائٹی میں احترام اور امن کا جذبہ پیدا کرتی ہے، اس سے عناد اور حسد دور ہوتا ہے اور ایک دوسرے پر اعتماد بڑھتا ہے۔حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اکرام ضیف کے لئے خاص طور پر ہدایت فرمائی ہے بلکہ اس کو ایمان کے نتائج اور ثمرات میں سے قرار دیا ہے چنانچہ صحیحین میں حضرت ابو ہریرہ کی روایت سے بیان کیا گیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمُ ضَيْفَة۔یعنی جو شخص خدا تعالیٰ اور روز آخرت پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہیے کہ اپنے مہمان کا اکرام کرے۔ایمان کامل نہیں ہوتا جب تک یہ اخلاقی قوت اس میں نشو ونما نہیں پاتی۔اکرام ضیف میں بہت سی باتیں داخل ہیں یا یہ کہو کہ اس کے مختلف اجزاء ہیں۔اس کے حقوق کی رعایت کرنا ، مرحبا کہنا ، نرمی کرنا ، اظہار بشاشت کرنا ، حسب طاقت کھانا وغیرہ کھلانا اور اس کے آرام میں ایثار سے کام لینا اور جب وہ روانہ ہو تو اس کی مشایعت کرنا۔اکرام ضیف انبیاء علیہم السلام کی سنت میں داخل ہے اور حقیقت میں یہ خلق کامل طور پر ان میں ہی پایا جاتا ہے۔اور پھر اس کا کامل ترین نمونہ آنحضرت ﷺ کے اسوہ حسنہ اور آپ کے بروز حضرت مسیح موعود علیہ السلام میں موجود ہے۔خدا تعالیٰ کی ایک مخلوق ان کے پاس بغرض حصول ہدایت آتی ہے اور وہ حق پہنچانے کے لئے اپنے دل میں ایک جوش اور تڑپ رکھتے ہیں اور پھر سنت اللہ کے موافق ان کی مخالفت بھی شدید ہوتی ہے مگر ہر حالت میں وہ اپنے مہمانوں کے آرام اور خاطر مدارات میں کبھی فرق نہیں کرتے اور ان کی انتہائی کوشش یہ ہوتی ہے کہ ان کے مہمانوں کو آرام ملے۔