سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 122
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام حصّہ اوّل حضرت مسیح موعود کی خصوصیت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو تو خصوصیت سے اس کی طرف توجہ تھی اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قبل از وقت آپ کو وحی الہی کے ذریعہ سے آنے والی مخلوق کی خبر دی تھی اور فرمایا تھا کہ تیرے پاس دور دراز سے لوگ آئیں گے اور ایسا ہی فرمایا " لا تُصَعْرُ لِخَلْقِ اللَّهِ وَلَا تَسْتَمُ مِّنَ النَّاسِ۔غرض یہاں تو پہلے ہی سے مہمانوں کے بکثرت آنے کی خبر دی گئی تھی اور پہلے ہی سے اللہ تعالیٰ نے آپ کے قلب کو وسعت اور دل میں حوصلہ پیدا کر رکھا تھا۔اور مہمان نوازی کے لئے آپ گویا بنائے گئے تھے۔اب میں آپ کی زندگی کے واقعات میں انشاء اللہ العزیز دکھاؤں گا کہ آپ نے کس طرح پر مہمان نوازی کا حق ادا کیا اور ایک اسوہ حسنہ اکرام ضیف کا چھوڑا۔اکرام ضیف کی روح آپ میں فطرتا آئی تھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو خدا تعالیٰ نے جس خاندان میں پیدا کیا وہ اپنی عزت و وقار کے لحاظ سے ہی ممتاز نہ تھا بلکہ اپنی مہمان نوازی اور جود وسخا کے لئے بھی مُشَارُ إِلَيْهِ تھا۔اس خاندان کا دستر خوان ہمیشہ وسیع تھا۔جس عظیم خاتون کو حضرت مرزا غلام احمد صاحب علیہ السلام جیسا بیٹا جننے کا فخر حاصل ہے وہ خاص طور پر مہمان نوازی کے لئے مشہور تھیں۔قادیان میں پرانے زمانہ کے لوگ ہمیشہ ان کی اس صفت کا اظہار کیا کرتے تھے اور میں نے بلا واسطہ ان سے سنا جنہوں نے اس زمانہ ہی کو نہیں پایا بلکہ اس مائدہ سے حصہ لیا۔چنانچہ میں سیرت مسیح موعود کے صفحه ۱۴۰ پر حضرت مائی چراغ بی بی صاحبہ مرحومہ کا ذکر کر چکا ہوں اور ان کی اس اخلاقی خوبی کا اظہار ان الفاظ میں کیا ہے۔مہمان نوازی کے لئے ان کے دل میں نہایت جوش اور سینہ میں وسعت تھی۔وہ لوگ جنہوں نے ان کی فیاضیاں اور مہمان نوازیاں دیکھی ہیں ان میں سے بعض اس وقت تک زندہ ہیں ، وہ بیان کرتے ہیں کہ انہیں اگر باہر سے یہ اطلاع ملتی کہ چار