سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 103
سیرت حضرت مسیح موعود علیہا (۵) حضرت مولوی نورالدین صاحب خلیفہ اسیح کا واقعہ اسی سلسہ میں حضرت مخدوم الملت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایسا ہی ایک دفعہ اتفاق ہوا جن دنوں حضرت تبلیغ لکھا کرتے تھے ( آئینہ کمالات اسلام میں جو تبلیغ ہے۔ایڈیٹر ) مولوی نورالدین صاحب تشریف لائے حضرت نے ایک بڑا بھاری دو ورقہ مضمون لکھا اور اس کی فصاحت و بلاغت خدا داد پر حضرت کو بڑا ناز تھا اور وہ فارسی ترجمہ کے لئے مجھے دینا تھا مگر یاد نہ رہا اور جیب میں رکھ لیا اور باہر سیر کو چل دیے مولوی صاحب اور جماعت بھی ساتھ تھی واپسی پر کہ ہنوز راستہ ہی میں تھے مولوی صاحب کے ہاتھ میں کاغذ دے دیا کہ وہ پڑھ کر عاجز راقم کو دے دیں مولوی صاحب کے ہاتھ سے وہ مضمون گر گیا واپس ڈیرہ میں آئے اور بیٹھ گئے۔حضرت معمولاً اندر چلے گئے میں نے کسی سے کہا کہ آج حضرت نے مضمون نہیں بھیجا اور کا تب سر پر کھڑا ہے اور ابھی مجھے ترجمہ بھی کرنا ہے۔مولوی صاحب کو دیکھتا ہوں تو رنگ فق ہو رہا ہے آپ نے نہایت بے تابی سے لوگوں کو دوڑایا کہ لیجیو، پکڑ یو لیکیو کا غذراہ میں گر گیا۔مولوی صاحب اپنی جگہ بڑے بخل اور حیران تھے کہ بڑی خفت کی بات ہے۔حضرت کیا کہیں گے یہ عجیب ہوشیار آدمی ہے ایک کاغذ اور ایسا ضروری کاغذ بھی سنبھال نہیں سکا۔حضرت کو خبر ہوئی معمولی ہشاش بشاش چہرہ تبسم ریز لب تشریف لائے اور بڑا عذر کیا کہ مولوی صاحب کو کاغذ کے گم ہونے سے بڑی تشویش ہوئی مجھے افسوس ہے کہ اس کی جستجو میں اس قدر د وادو اور تکاپو کیوں کیا گیا ؟ میرا تو یہ اعتقاد ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سے بہتر ہمیں عطا فرما دے گا۔“ حصّہ اوّل ( مصنفہ حضرت مولانا عبدالکریم صاحب سیالکوئی صفحہ ۲۱) اس واقعہ کونظر امعان سے دیکھو! اگر کوئی اور شخص ہوتا تو اس کی خفگی اور خشونت کا اندازہ بھی نہ ہوسکتا۔آپے سے باہر ہو جاتا مگر یہ عفو اور رحم کی زندہ تصویر بجائے اس کے کہ افسوس کرے بجائے