سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 99
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۹۹ حصّہ اوّل خدام سے عفو و درگزر (۱) محمد اکبر خان صاحب سنوری کا واقعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پرانے خادموں میں سے ایک محمد اکبر خان صاحب سنوری ہیں جو مدت سے دارالامان میں ہجرت کر کے آگئے اور اب یہاں ہی رہتے ہیں اس واقعہ کے قلم بند کرنے کے وقت تک وہ خدا کے فضل سے زندہ ہیں وہ حضرت اقدس کے عملی طور پر خادم تھے اور خادم کو اپنے مالک و آقا کے حضور متعدد مرتبہ پیش ہونے کا بھی موقع ملتا ہے اور اس کی زندگی میں بہت سے ایسے واقعات آتے ہیں جبکہ اس سے کسی فرض کی ادائیگی یا تکمیل میں کوئی نقص اور کمی پیدا ہو اور اس کے کسی فعل سے مالک کے مال یا آرام پر اثر پڑے اور وہی وقت اس کے اخلاق کے ظہور اور انداز ہ کا ہوتا ہے۔خان صاحب بیان کرتے ہیں کہ جب ہم وطن چھوڑ کر قادیان آگئے تو ہم کو حضرت اقدس نے اپنے مکان میں ٹھہرایا۔حضرت اقدس کا قاعدہ تھا کہ رات کو عموماً موم بتی جلایا کرتے تھے اور بہت سی موم بتیاں اکٹھی روشن کر دیا کرتے تھے جن دنوں میں میں آیا میری لڑکی بہت چھوٹی تھی۔ایک دفعہ حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام کے کمرے میں بتی جلا کر رکھ آئی۔اتفاق ایسا ہوا کہ وہ بتی گر پڑی اور تمام مسودات جل گئے علاوہ ازیں اور بھی چند چیزوں کا نقصان ہو گیا۔تھوڑی دیر کے بعد جب معلوم ہوا کہ حضرت اقدس کے کئی مسودات ضائع ہو گئے ہیں تو تمام گھر میں گھبراہٹ ، میری بیوی اور لڑکی کو سخت پریشانی کیونکہ حضرت اقدس کتابوں کے مسودات بڑی احتیاط سے رکھا کرتے تھے۔لیکن جب حضور کو معلوم ہوا تو حضور نے اس واقعہ کو یہ کہہ کر رفت گذشت کر دیا کہ خدا کا بہت ہی شکر ادا کرنا چاہیے کہ کوئی اس سے زیادہ نقصان نہیں ہو گیا۔تھوڑی دیر کے لئے اس واقعہ پر غور کیا جاوے۔حضرت اقدس ایک کتاب تصنیف کر رہے ہیں اور شبانہ روز محنت سے اس کا مسودہ لکھا گیا ہے۔آن کی آن میں وہ ایک خادمہ کی غفلت اور بے پروائی سے ضائع ہو گیا ہے دوسری طرف کا تب اور پریس کے اخراجات سر پر پڑ رہے ہیں ایسے