سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 90 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 90

سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۹۰ ہے اور مرتبہ فَنَا فِی اَخْلَاقِ اللہ کا تب متحقق ہوسکتا ہے کہ جس طرح خداوند تعالیٰ حقیقی نیکی کو بجالاتا ہے۔نہ مجازی نیکی کو یہ بھی حقیقی نیکی کا مصدر ہو جائے ”علی آنُ تَكْرَهُوا شَيْئًا وَهُوَ خَيْرٌ لَكُمْ (البقرة: ۲۱۷)‘ ، پس حقیقی نیکی کا مصدر ہوا تو با عث فَنَا فِي اَخلاقِ اللہ کے مرتبہ تو حید فعلی کا پالے گا“۔حصہ اول ( الحکم ۲۴ ستمبر ۱۹۰۵ء صفحه ۳ کالم نمبر ۲ ،۳۰) اور ہم پہلے بیان کر چکے ہیں کہ اخلاق فاضلہ فی نفسہ کچھ چیز نہیں بلکہ وہ قو تیں خدا تعالیٰ نے انسان کو اس لئے عطا فرمائی ہیں تا کہ انسان فنا فی اخلاق اللہ کا مرتبہ حاصل کر کے تو حید فعلی کو حاصل کرے۔اصل معیار اخلاق صراط مستقیم پر قائم ہونا ہے پھر آپ نے بتایا ہے کہ اخلاق کا اصل معیار صراط مستقیم پر قائم ہونا ہے یا دوسرے الفاظ میں یہ کہو کہ جب تک اعتدال اور توسط کا مقام انسان کو اپنے افعال و اعمال میں حاصل نہیں ہوتا اس وقت تک وہ نہ اس حقیقت کو پاسکتا ہے جو فنافی اخلاق اللہ کے نام سے تعبیر کی جاتی ہے اور اس لئے اس کو حقیقی نیکی اور تو حید فعلی کا درجہ بھی نصیب نہیں ہوتا۔چنانچہ آپ فرماتے ہیں۔اب جبکہ مدار فنا فی اخلاق اللہ کا حقیقی نیکی ٹھہری تو ایسی حقیقی نیکی پر قدم مارنا صراط مستقیم ہے اور اسی کا نام توسط اور اعتدال ہے کیونکہ تو حید فعلی جو مقصود بالذات ہے وہ اس سے حاصل ہوتی ہے اور جو شخص اس نیکی کے حاصل کرنے میں متساہل رہے وہ درجہ تفریط میں ہے اور جو شخص اس سے آگے بڑھے وہ افراط میں پڑتا ہے ہر جگہ رحم کرنا افراط ہے کیونکہ محل کے ساتھ بے محل کا پیوند کر دینا اصل پر زیادتی ہے اور یہی افراط ہے اور کسی جگہ بھی رحم نہ کرنا یہ تفریط ہے۔۔۔اور وضع شے کا اپنے محل پر کرنا یہ توسط اور اعتدال ہے کہ جو صراط مستقیم سے موسوم ہے۔جس کی تحصیل کے لئے کوشش کرنا ہر ایک مسلمان پر فرض کیا گیا ہے اور اُس کی دعا ہر نماز میں بھی مقرر ہوئی ہے جو صراط مستقیم کو