سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 81 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 81

سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ΔΙ حصّہ اوّل ہیں مثلاً کہتے ہیں کہ فلاں شخص کا خُلق اور خلق دونوں اچھا ہے یعنی اس کا ظاہر بھی اچھا 66 ہے اور باطن بھی۔‘“ و, الغزالی مصنفہ علامہ شبلی نعمانی صفحه ۱۲۶،۱۲۵۔زیر عنوان احیاء العلوم کا فلسفه اخلاق) اس کا مقابلہ کر و حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بیان سے آپ فرماتے ہیں۔جاننا چاہیے کہ خلق خاء کی فتح سے ظاہری پیدائش کا نام ہے اور خُلق خا کے ضمہ سے باطنی پیدائش کا نام ہے۔اور چونکہ باطنی پیدائش اخلاق سے ہی کمال کو پہنچتی ہے نہ صرف طبعی جذبات سے۔اس لئے اخلاق پر ہی یہ لفظ بولا گیا ہے طبعی جذبات پر نہیں۔“ اسلامی اصول کی فلاسفی۔روحانی خزائن جلد نمبر ۱ صفحه ۳۳۲) وو پھر اس حقیقت کو آپ نے کسی قدر وضاحت سے آگے چل کر یوں بیان کیا ہے کہ۔یہ بات بھی بیان کر دینے کے لائق ہے کہ جیسا کہ عوام الناس خیال کرتے ہیں کہ خُلق صرف حلیمی اور نرمی اور انکسار ہی کا نام ہے یہ ان کی غلطی ہے بلکہ جو کچھ بمقابلہ ظاہری اعضاء کے باطن میں انسانی کمالات کی کیفیتیں رکھی گئی ہیں ان سب کیفیتوں کا نام خلق ہے۔مثلاً انسان آنکھ سے روتا ہے اور اس کے مقابل پر دل میں ایک قوت رقت ہے وہ جب بذریعہ عقل خدا داد کے اپنے محل پر مستعمل ہوتو وہ ایک خلق ہے۔ایسا ہی انسان ہاتھوں سے دشمن کا مقابلہ کرتا ہے اور اس حرکت کے مقابل پر دل میں ایک قوت ہے جس کو شجاعت کہتے ہیں۔( عَلَى هَذَا الْقِيَاسِ) اسلامی اصول کی فلاسفی۔روحانی خزائن جلد نمبر ۱۰ صفحه ۳۳۲) اب حضرت غزالی اور حضرت مسیح موعود کے فلسفہ اخلاق کا امتیاز اور کمال صاف صاف اور کھلا کھلا نظر آتا ہے۔غرض طبعی حالت اور اخلاقی حالت میں کسی نے امتیاز کر کے نہیں بتایا یہ لگا نہ فخر قابلِ ناز حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ہے۔