سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 73 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 73

سیرت حضرت مسیح موعود علیہا ۷۳ حصّہ اوّل انتظار کرنا پڑتا پلیٹ فارم پر ٹہلتے رہتے تھے۔سیر کے لئے کبھی کبھی آپ بالکل تنہا بھی چلے جاتے تھے اور کسی کو علم بھی نہ دیتے تھے۔جب ایسی حالت ہوتی تھی تو اس وقت آپ کا مقصد جنگل میں چھپ کر دعا کرنا ہوتا تھا۔چنانچہ ایک موقعہ پر خود آپ نے لکھا ہے جونزول مسیح کے صفحہ ۲۳۴ پیشگوئی نمبر ۱۱۷ کے ضمن میں شائع ہوا ہے کہ ایک دفعہ ہمیں اتفاقاً پچاس روپیہ کی ضرورت پیش آئی اور جیسا کہ اہل فقر اور تو کل پر کبھی کبھی ایسی حالت گزرتی ہے اس وقت ہمارے پاس کچھ نہ تھا سو جب ہم صبح کے وقت سیر کے واسطے گئے تو اس ضرورت کے خیال نے ہم کو یہ جوش دیا کہ اس جنگل میں دعا کریں پس ہم نے ایک پوشیدہ جگہ میں جا کر اس نہر کے کنارہ پر دعا کی جو قادیان سے تین میل کے فاصلہ پر بٹالہ کی طرف واقع ہے جب ہم دعا کر چکے تو دعا کے ساتھ ہی ایک الہام ہوا جس کا ترجمہ یہ ہے۔دیکھ میں تیری دعاؤں کو کیسے جلد قبول کرتا ہوں۔“ تب ہم خوش ہو کر قادیان کی طرف واپس آئے اور بازار کا رخ کیا تا کہ ڈاکخانہ سے دریافت کریں کہ آج ہمارے نام کچھ روپیہ آیا ہے یا نہیں۔چنانچہ ہمیں ایک خط ملا جس میں لکھا تھا کہ پچاس روپیہ لدھیانہ سے کسی نے روانہ کئے ہیں اور غالباوہ روپیہ اسی دن یا دوسرے دن ہمیں مل گیا۔“ (روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۶۱۲ ) کبھی کبھی آپ حضرت ام المومنین کو بھی ہمراہ لے کر سیر کو تشریف لے جایا کرتے تھے۔معمولات یا آداب سیر میں یہ مشاہدہ میں آیا کہ کوئی ترتیب صف بندی کے طور پر نہ ہوتی تھی۔چونکہ ہر شخص کو یہ خیال ہوتا تھا کہ میں حضرت کے قریب رہوں اس لئے ایک دوسرے پر گویا گرے پڑتے تھے اور بسا اوقات اکثر لوگ آپ سے آگے ہو جاتے تھے مگر کبھی آپ نے کسی کو نہ کہا کہ کیوں آگے ہو گئے ہو۔اور بعض دفعہ لوگوں کی ٹھوکر سے آپ کا عصا گر پڑتا تو آپ کبھی پیچھے پھر کر بھی نہ دیکھتے کہ کس کی بے احتیاطی سے ایسا ہوا۔گردو غبار اڑ کر آپ کے کپڑے خاک آلود ہو جاتے تھے مگر آپ پروا نہ کرتے اور نہ کبھی ذکر کرتے بلکہ ایک مرتبہ حضرت مخدوم الملت مولوی عبد الکریم صاحب رضی اللہ عنہ