سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 71
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام حصّہ اوّل پر جبى فى الله - اخویم ہوا کرتے تھے اور مکرمی بھی لکھا کرتے تھے خواہ کوئی شخص کتنے ہی چھوٹے درجہ کا ہو۔اور آپ کے ساتھ جو لوگ ارادت اور عقیدت کا تعلق رکھتے تھے وہ آپ کے غلاموں کے غلام ہونا اور کہلانا بھی اپنی عزت سمجھتے تھے مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ان کو ہمیشہ اکرام اور احترام کے الفاظ سے یاد فرمایا کرتے تھے اور آپ کی عادت میں تھا ہی نہیں کہ کسی کو صرف نام لے کر پکاریں بلکہ کوئی نہ کوئی تعظیمی لفظ شامل کر لیتے اور جمع کا صیغہ بغرض تعظیم استعمال فرماتے تھے۔آپ کہہ کر خطاب کرتے۔یہ تمام امور آپ کے مکتوبات کے ملاحظہ سے عیاں ہیں جن کی کچھ جلدیں شائع ہو چکی ہیں اور بعض اپنے اپنے وقت پر انشاء اللہ العزیز شائع ہو جائیں گی۔آج تک ان مکتوبات کی اشاعت کی توفیق ( بجز ایک کتاب کے ) اسی عاجز کوملی ہے۔وَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى ذَالِكَ۔سیر کی عادت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عادت میں یہ بات بھی داخل تھی کہ آپ روزانہ سیر کو جایا کرتے تھے اور یہ عادت آپ کو اس وقت سے تھی جب سے آپ نے ہوش سنبھالا تھا ابتداء تنہا جایا کرتے تھے پھر جب لالہ ملا وامل اور شرمپت رائے آپ کے پاس آنے جانے لگے تو یہ لوگ بھی سیر میں ساتھ ہوا کرتے تھے۔اور سیر کا وقت سردی کے دنوں میں آٹھ یا نو بجے اور گرمیوں میں صبح ہی جیسا کہ میں حیات احمد کے صفحہ ۴۸ پر درج کر آیا ہوں کہ لالہ ملا وامل کہتے ہیں۔سردیوں کے دنوں میں آٹھ یا نو بجے کے قریب اور گرمیوں میں صبح ہی سیر کو چلے جاتے اور دو اڑھائی میل تک ہوا خوری کے لئے جاتے اور اس عرصہ میں واقعات جاریہ اور مذہبی معاملات پر تبادلہ خیالات ہوتا تھا۔کبھی کبھی تفریح مگر نہایت پاک اور 66 بے ضرر تفریح کی باتیں بھی ہوتی رہتی تھیں۔“ حیات احمد جلد اصفحه ۲۲۸ شائع کردہ نظارت اشاعت) تفریح انسان کی فطرت میں داخل ہے اس لئے فطرت صحیحہ کا یہ صحیح نقشہ ہے اور انبیاء جو انسانوں کی راہنمائی کے لئے آتے ہیں وہ زندگی کے ہر شعبہ اور صیغہ میں اسوہ حسنہ ہوتے ہیں۔پس