سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 68
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۶۸ حصہ اول اس سے پہلی اور پچھلی تاریخوں کے الہام حضرت صاحب کے اپنے ہاتھ کے لکھے ہوئے موجود ہیں۔( کا پی لوگوں کو دکھائی گئی ) اور یہ کاپی اب تک میرے پاس ہے اور ہر ایک طالب حق کو دکھائی جاسکتی ہے۔“ اس سے آپ کی اس عادت کا پتہ لگتا ہے ہے۔( صفحه ۳۷ و ۳۸) اس بیچ میر زراقم نے ایک دفعہ ۱۸۹۸ء میں ایک رؤیا دیکھی جو حضرت خلیفہ ثانی کے اقتدار اور اقبال و کامیابی پر دلالت کرتی ہے اور اس میں مجھے ایک کاغذ بھی دکھایا گیا جس پر لکھا ہوا تھا نظام الملک اور پھر وہ دن آگئے اور اس آخری فقرہ کے متعلق یہ بتایا گیا تھا کہ حضرت مسیح موعود کے اس الہام سے متعلق ہے۔وہ دن آئیں گے کہ خدا تعالیٰ اپنی افواج کے ساتھ آئے گا۔میں نے جب یہ خواب صبح کی نماز کے بعد سنائی تو یکا یک حضرت کی طبیعت میں ایک جوش پیدا ہوا۔اور فرمایا دعا کرو چنانچہ سب نے ہاتھ اٹھائے اور آپ نے بہت لمبی دعا کی۔غرض آپ خوابوں کے سنے سنانے اور ان کی تعبیر کی ایک عادت رکھتے تھے اور یہ امر آپ کے معمولات میں داخل تھا۔ہمیشہ با وضور ہنا آپ کے معمولات میں تھا آپ کے معمولات اور عادت میں یہ بات داخل تھی کہ آپ ہمیشہ باوضور ہتے۔مکرمی مولوی محمد فضل صاحب چنگوی نے ”نَهْجُ المُصلی “ کے صفحہ۳۲ پر اور حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے اپنی سیرت المہدی جلد اول کے صفحہ ۲۰ پر بروایت ام المومنین رضی اللہ عنہا لکھا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام عام طور پر ہر وقت باوضو رہتے تھے۔مختلف سفروں میں خود میں نے بھی اس امر کا مشاہدہ کیا کہ آپ جب کبھی پیشاب یا رفع حاجت کر کے آتے تو وضو کر لیتے تھے۔رات کو بھی تحریری کام کرنے کی عادت تھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عادت شریف میں یہ بات داخل تھی کہ رات کو بھی عموماً تحریر کا کام کیا کرتے تھے اور یہ کام عموماً موم بتیوں کی روشنی میں کرتے تھے۔ابتدائی زمانہ میں دیسی چراغ