سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 67
سیرت حضرت مسیح موعود علیہا شریفہ کا اظہار کیا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی یہ عادت تھی کہ ہر شخص کی خواب توجہ سے سنتے حصّہ اوّل اور بسا اوقات نوٹ بھی فرمالیتے (سیرت المہدی جلد اول روایت نمبر ۳۰ مطبوعه (۲۰۰۸ء) غرض یہ امر تو اتر کے طور پر ثابت ہے کہ آپ کی عادت شریفہ تھی کہ آپ خوابوں کو سنا کرتے اور ان کی تعبیر فرمایا کرتے۔آپ کی بیان کردہ تعبیریں شائع ہو چکی ہیں اور خواب کی فلاسفی اس کے اقسام اور خواب کے متعلق بعض دوسرے ضروری امور اور جزئیات پر آپ نے نہایت لطیف معقول اور عام فہم تقریریں فرمائی ہیں۔یا اپنی تصانیف اور مکتوبات میں ذکر کیا ہے اور یہ خدا کا فضل ہے کہ ان تقریروں اور مکتو بات کو اس بیچ میر ز نے شائع کرنے کی سعادت حاصل کی ہے۔دوسرے آدمیوں کی بعض رؤیا اور کشوف پر جو سلسلہ سے متعلق ہوں یا اسلام کے لئے کسی رنگ میں مؤثر ہوں آپ خاص طور پر نوٹ فرماتے اور توجہ کرتے تھے۔صاحبزادہ بشیر احمد صاحب نے اپنی رؤیا کا ذکر اپنی سیرت کے صفحہ ۱۹ پر کیا ہے۔(سیرت المہدی جلد اول روایت نمبر ۳۰ مطبوعہ ۲۰۰۸ء) ایسا ہی حضرت خلیفہ ثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کی وہ مشہور رویا آپ نے اپنی نوٹ بک میں قلم بند کی جو جماعت میں تفرقہ اور فتنہ خلافت کے متعلق ہے۔جس کا ذکر حضرت خلیفہ ثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز نے ۱۹۱۴ ء کے سالانہ جلسہ پر کیا اور آپ کی وہ تقریر ”برکات خلافت کے نام سے شائع ہوئی جس کے صفحہ ۱۳۴ لغایت ۳۸ پر اس کا ذکر ہے۔یہ رویا ۱۸ مارچ ۱۹۰۷ء کی ہے۔آپ لکھتے ہیں کہ ۸ مارچ کو میں نے یہ رویا دیکھی تھی اور وہ اس طرح کہ جس رات کو میں نے یہ رؤیا دیکھی اسی صبح کو حضرت والد ماجد کو سنایا۔آپ سن کر نہایت متفکر ہوئے اور فرمایا کہ مسجد سے مراد تو جماعت ہوتی ہے شاید میری جماعت کے کچھ لوگ میری مخالفت کریں یہ رؤیا مجھے لکھوادے چنانچہ میں لکھوا تا گیا اور آپ اپنی الہاموں کی کاپی میں لکھتے گئے۔پہلے تاریخ لکھی پھر یہ لکھا کہ محمود کی رؤیا۔پھر تینوں رویا لکھیں۔ان تینوں رویا کے اردگرد