سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 60
برت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ا عرفی اصطلاح کے قالب میں ڈھالنے اور اپنے تئیں ہر بات میں کچھ سمجھنے اور ماننے والا ! بس خدا ہی خوب جانتا ہے کہ میں اس مجمع میں کس قدر شرمندہ ہوا اور مجھے سخت افسوس حصّہ اوّل ہوا کہ کیوں میں نے ایک لمحہ کے لئے بھی بوڑھے تجربہ کار نرم خوصوفی کی پیروی کی۔برادران! اس ذکر سے جسے میں نے نیک نیتی سے لکھا ہے میری غرض یہ ہے کہ اس انسان میں جو مجبوراً پاکیزہ فطرت اور حقوق کا ادا کرنے والا اور اخلاق فاضلہ کا معلّم ہو کر آیا ہے اور دوسرے لوگوں میں جنہیں نفس نے مغالطہ دے رکھا ہے کہ وہ بھی کسی کی صحبت میں کوئی گھائی طے کر چکے ہیں اور ہنوز انہوں نے اخلاق سے ذرا بھی حصہ نہیں لیا بڑا فرق ہے۔“ ( سیرت حضرت مسیح موعود مصنفہ مولا نا عبدالکریم صاحب سیالکوئی صفحہ۱۴ تا ۶ کھانے کے متعلق گرفت کی عادت نہ تھی ☆ منشی عبدالحق صاحب اور حضرت مخدوم الملت رضی اللہ عنہ کوتو یہ جواب دیا۔بایں کبھی کبھی اگر گھر میں کسی خاص کھانے کے لئے ہدایت فرماتے اور اس کی تعمیل کسی وجہ سے نہ ہوتی تو آپ اس پر گرفت نہ فرماتے۔چنانچہ خود حضرت مخدوم الملت فرماتے ہیں۔اگر کبھی کوئی خاص فرمائش کی ہے کہ وہ چیز ہمارے لئے تیار کر دو اور عین اس وقت کسی ضعف یا عارضہ کا مقتضا تھا کہ وہ چیز لازماً تیار ہوتی اور اس کے انتظار میں کھانا بھی نہیں کھایا اور کبھی کبھی جو لکھنے یا تو جہ الی اللہ سے نزول کیا ہے تو یاد آ گیا ہے کہ کھانا کھانا ہے اور منتظر ہیں کہ وہ چیز آتی ہے آخر وقت اس کھانے کا گذر گیا اور شام کے کھانے کا وقت آگیا ہے اس پر بھی کوئی گرفت نہیں۔اور نرمی سے پوچھا ہے اور عذر کیا گیا ہے کہ دھیان نہیں رہا تو مسکرا کر الگ ہو گئے ہیں۔اللہ! اللہ ! ادنی خدمت گار اور اندر کی عورتیں جو کچھ چاہتی ہیں پکاتی کھاتی ہیں حمد نوٹ۔اس کتاب میں مصنفہ مولانا عبد الکریم صاحب سیالکوٹی " شائع کردہ ابوالفضل محمود صاحب از قادیان کے مطابق حوالہ جات دیئے گئے ہیں۔( ناشر )