سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 45
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۵ حصّہ اوّل مقدار خوراک قرآن شریف میں کفار کے لئے وارد ہے يَأْكُلُونَ كَمَا تَأْكُلُ الْأَنْعَامُ (محمد:۱۳) اور حدیث شریف میں آیا ہے کہ کا فرسات انتڑیوں میں کھاتا اور مومن ایک میں۔مرادان باتوں سے یہ ہے کہ مومن طیب چیز کھانے والا اور دنیا دار یا کافر کی نسبت بہت کم خور ہوتا ہے۔جب مومن کا یہ حال ہوا تو پھر انبیاء اور مرسلین علیہم السلام کا تو کیا کہنا۔آنحضرت ﷺ کے دستر خوان پر بھی اکثر ایک سالن ہی ہوتا تھا۔بلکہ ستو یا صرف کھجور یا دودھ کا ایک پیالہ ہی ایک غذا ہوا کرتی تھی۔اسی سنت پر ہمارے حضرت اقدس علیہ السلام بھی بہت ہی کم خور تھے اور بمقابلہ اس کام اور محنت کے جس میں حضور دن رات لگے رہتے تھے اکثر حضور کی غذا دیکھی جاتی تو بعض اوقات حیرانی سے بے اختیار لوگ یہ کہ اُٹھتے تھے کہ اتنی خوراک پر یہ شخص زندہ کیونکر رہ سکتا ہے۔خواہ کھانا کیساہی عمدہ اور لذیذ ہواور کیسی ہی بھوک ہو آپ کبھی حلق تک ٹھونس کر نہیں کھاتے تھے۔عام طور پر دن میں دو وقت مگر بعض اوقات جب طبیعت خراب ہوتی تو دن بھر میں ایک ہی دفعہ کھانا نوش فرمایا کرتے تھے۔علاوہ اس کے چائے وغیرہ ایک پیالی صبح بطور ناشتہ بھی پی لیا کرتے تھے۔مگر جہاں تک میں نے غور کیا آپ کو لذیذ مزیدار کھانے کا ہر گز شوق نہ تھا۔اور ثبوت اس بات کا یہ ہے کہ آپ سالن بہت ہی کم کھاتے تھے۔اوقات عموماً آپ صبح کا کھانا دس بجے سے ظہر کی اذان تک اور شام کا نماز مغرب کے بعد سے سونے کے وقت تک کھا لیا کرتے تھے۔کبھی شاذ و نادر ایسا بھی ہوتا تھا کہ دن کا کھانا آپ نے بعد ظہر کھایا ہو۔شام کا کھانا مغرب سے پہلے کھانے کی عادت نہ تھی مگر کبھی کبھی کھا لیا کرتے تھے۔مگر معمول دو طرح کا تھا جن دنوں میں آپ بعد مغرب عشاء تک باہر تشریف رکھا کرتے تھے اور کھانا گھر میں