سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 43 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 43

سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۳ مولا نا مولوی عبد الکریم صاحب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔حضرت مخدوم الملتہ کی آنکھ سے لباس پر نظر حصّہ اوّل لباس کا یہ حال ہے کہ پشمینہ کی بڑی قیمتی چادر ہے۔جس کی سنبھال اور پڑتال میں ایک دنیا دار کیا کیا غور و پرداخت کرتا اور وقت کا بہت سا حصہ بے رحمی سے اس کی پرستش میں صرف کر دیتا ہے حضرت اسے اس طرح خوار کر رہے ہیں کہ گویا ایک فضول کپڑا ہے۔واسکٹ کے بٹن نیچے کے ہول میں بند کرتے آخر رفتہ رفتہ سبھی ٹوٹ جاتے ہیں۔ایک دن تعجب سے فرمانے لگے کہ بٹن لگانا بھی تو آسان کام نہیں ہمارے تو سارے بٹن جلدی ٹوٹ جاتے ہیں اور فرمایا کہ حقیقت میں ان میں تضیع اوقات بہت ہے اگر چہ آرام بھی ہے۔غرض لباس سے آپ کو دل چسپی نہیں بے شک ایک دنیا پرست حقیقت ناشناس ظاہر بین اچھا لباس دیکھ کر اس کہنہ میں پے نہیں لے جاسکتا اور قریب ہے وہ اپنے نفس پر قیاس کر کے کہے کہ آپ کو اچھے لباس سے تعلق ہے۔مگر رات دن پاس بیٹھنے والے اس بے التفاتی کی حقیقت کو خوب سمجھتے ہیں۔ایک روز فرمایا کہ ”ہم تو اپنے ہاں سے کاتے اور بنائے ہوئے کپڑے پہنا کرتے تھے اب خدا تعالیٰ کی مرضی سے یہ کپڑے لوگ لے آتے ہیں ہمیں اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ اُن میں اور اِن میں کوئی تفاوت نظر نہیں آتا۔“ کمر باندھ کر باہر نکلنا میں نے اوپر لکھا ہے کہ حضرت صاحب کمر باندھا کرتے تھے اور سیر کو جب نکلتے تو عموماً کمر باندھ کر نکلتے تھے۔مئی ۱۹۰۲ ء کے پہلے ہفتہ میں آپ بیمار ہو گئے۔۰ ارمئی ۱۹۰۲ء کو جبکہ عشاء کی نماز کے تھوڑی دیر بعد شمال کی جانب سے خوب چمکتا اور گر جتا بادل آیا اور اول اول خفیف سا ترشح ہوا۔میں ( حضرت مخدوم الملۃ ) اور مکرم مولوی نور الدین فاروقی ( رضی اللہ عنہ بیت الفکر میں بیٹھے بات چیت کر رہے