سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 620
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۶۲۰ حصہ پنجم جمالی اور جلالی صفات کی تجلی اپنے ماموروں کے ذریعہ دکھاتا ہے اس لئے وہ انذار و تبشیر کی دونوں صفات کے جامع ہوتے ہیں۔پس یہ سمجھ لینے کے بعد کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی یہ اولا د مبشر اور موعود ہے اور اس میں ایک خاص وجود اور مصلح موعود ہے پھر اولاد کے حق میں دعاؤں کا راز بآسانی معلوم ہو جاتا ہے۔اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام محض ایک انسان کی حیثیت اور انسان کے فطری جذبات کے ماتحت بھی اپنی اولاد کے اقبال و شکوہ کے لئے دعائیں کرتے تو بھی یہ جائز اور صحیح ہوتا لیکن یہاں اولاد کے لئے جو دعائیں ہیں وہ اس نوعیت کی نہیں اس مقصد کے لئے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے جلال کے اظہار اور دین قویم کی عظمت کے قیام کیلئے ہیں اور اسی لئے ان دعاؤں میں جو اوپر درج کر آیا ہوں اللہ تعالیٰ سے جو کچھ مانگا گیا ہے وہ وہی چیز ہے جس کے ذریعہ ترقی کر سکتا ہے۔حضرت اقدس کی ایک ایک دعا وہی ہے جن کا وعدہ اللہ تعالیٰ نے پیشگوئیوں میں فرمایا ہے میں بطور مثال کے ایک دو کا ذکر کرتا ہوں مثلاً آپ نے ایک دعا میں عرض کیا۔کر ان کو نیک قسمت دے ان کو دین و دولت کر ان کی خود حفاظت ہو ان پہ تیری رحمت دے رشد اور ہدایت اور عمر اور عزت یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ يَّرَانِي اس دعا میں ان کے متقی نیک دیندار رشید اور ہادی و مہدی ہونے کی دعا ہے اس کے ساتھ دولت کی بھی دعا ہے نادان کہے گا کہ مال و دولت میں دنیا کیلئے طلب ہے۔یہ سراسر غلط ہے دنیا کے ہادی اور اشاعت دین کے مبلغ ہونے کے لئے اس کی بھی ضرورت ہے کہ ان کی معاشی حالت اعلیٰ درجہ کی ہو علاوہ بریں خدا تعالیٰ نے جو بشارت دی تھی اس میں خصوصیت سے مصلح موعود کے متعلق فرمایا