سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 577 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 577

سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۵۷۷ حصہ پنجم جنگ یہ بڑھ کر ہے جنگ روس اور جاپان سے میں غریب اور ہے مقابل پر حریف نامدار دل نکل جاتا ہے قابو سے یہ مشکل سوچ کر اے مری جاں کی پناہ فوج ملائک کو اُتار بستر راحت کہاں اِن فکر کے ایام میں غم سے ہر دن ہو رہا ہے بد تر از شب ہائے تار لشکر شیطاں کے نرغے میں جہاں ہے گھر گیا بات مشکل ہو گئی قدرت دکھا اے میرے یار نسل انساں سے مدد اب سے مدد اب مانگنا بیکار ہے اب ہماری ہے تری درگاہ میں یارب پکار ان اشعار کو پڑھو اور پھر پڑھو۔غور کرو اور سوچو کہ جس انسان کا یہ آئینہ ہو اس کے قلب کی کیا حالت ہوگی۔(نوٹ ) اس دعائے منظوم کے ایک ایک شعر میں حضرت مسیح علیہ الصلوۃ والسلام کی سیرت و شمائل کے دفتر موجود ہیں سب سے بڑا غم اور سب سے بڑا فکر جو آپ کو اندر ہی اندر کھائے جا رہا ہے وہ اسلام کی بے کسی اور امت مرحومہ کی حالت زار ہے۔ایک دوسرے مقام پر اس ہم و غم کا ذکر آپ نے ان الفاظ میں کیا ہے۔(1) این دو فکرِ دین احمد مغز جان ما گداخت کثرتِ اعدائے ملت قلتِ انصارِ دیں (۲) اے خدا زود آ و بر ما آب نصرت با بیار یا مرا بر دار یارب زمیں مقام آتشیں (۳) اے خدا نور ہدگی از مشرق رحمت برار گر ہاں را چشم گن روشن ز آیات مبین (۴) چون مرا بخشیده صدق اندریں سوز و گداز نیست امیدم که ناکامم به میرانی در یں (۵) کاروبار صادقاں ہرگز نماند ناتمام صادقاں را دست حق باشد نہاں در آستیں ترجمہ اشعار۔(۱) دین احمد کے متعلق ان دو فکروں نے میری جان کا مغز گھلا دیا اعدائے ملت کی کثرت اور انصار دین کی قلت۔(۲) اے خدا جلد آ اور ہم پر اپنی نصرت کی بارش برساور نہ اے میرے رب اس آتشیں جگہ سے مجھ کو اٹھا لے۔(۳) اے خدا رحمت کے مطلع سے ہدایت کا نور طلوع کر اور چمکتے ہوئے نشان دکھلا کر گمراہوں کی آنکھیں روشن کر۔(۴) جب تو نے مجھے سوز و گداز میں صدق بخشا، تو مجھے یہ امید نہیں کہ تو اس معاملہ میں مجھے ناکامی کی موت دے گا۔(۵) بچوں کا کاروبار ہر گز نامکمل نہیں رہتا۔صادقوں کی آستین میں خدا کا ہاتھ مخفی ہوتا ہے۔