سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 32
سیرت حضرت مسیح موعود علیہا ۳۲ فرمایا۔اپنی ٹوپی پر ( جو سفید مکمل کی تھی ) دیکھو۔میں نے ٹوپی اتار کر دیکھی تو ایک قطرہ اس پر بھی تھا مجھے اس وقت بہت ہی خوشی ہوئی کہ میرے پر بھی ایک قطرہ خدا کی روشنائی کا گرا۔اس عاجز نے وہ کر تہ جس پر سرخی گری تھی تبر کا حضرت اقدس سے باصرار تمام لے لیا۔اس عہد پر کہ میں وصیت کر جاؤں گا کہ میرے کفن کے ساتھ دفن کر دیا جاوے۔کیونکہ حضرت اقدس اس وجہ سے اسے دینے سے انکار کرتے تھے کی میرے اور آپ کے بعد اس سے شرک پھیلے گا اور لوگ اس کو زیارت گاہ بنالیں گے۔اور اس کی پوجا شروع ہو جائے گی۔غرض کہ بہت ہی رد و قدح کے بعد دیا۔جو میرے پاس اس وقت تک موجود ہے اور سرخی کے نشان اس وقت تک بلاکم وکاست بعینہ موجود ہیں۔یہ ہے سچی عینی شہادت۔اگر میں نے جھوٹ بولا ہو تو لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الْكَاذِبِین کی وعید کافی ہے۔میں خدا کو حاضر ناظر جان کر اور اُسی کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ جو کچھ میں نے لکھا ہے سراسر سیج ہے۔اگر جھوٹ ہو تو مجھ پر خدا کی لعنت ! لعنت !! لعنت !!! مجھے پر خدا کا غضب ! غضب !! غضب !!! عاجز عبد اللہ سنوری حصّہ اوّل اس شہادت کی اشاعت پر پھر اہل حدیث کو چیلنج کیا گیا اور اس نے لکھا کہ ہمارے محلہ کی مسجد میں آکر قسم کھائیں چنانچہ اس مقصد کے لئے ۲۵ نومبر ۱۹۱۶ء کومنشی غلام نبی صاحب ایڈیٹر الفضل، میر قاسم علی صاحب ایڈیٹر فاروق اور مولوی عبداللہ سنوری صاحب امرتسر پہنچے اور ثناء اللہ صاحب سے خط وکتابت ہوئی۔جب خط و کتابت سے معاملہ طے ہوتا نظر نہ آیا تو یہ جماعت ۲۷ نومبر ۱۹۱۶ء کی صبح کو مولوی ثناء اللہ صاحب کی مسجد میں پہنچی۔ثناء اللہ صاحب نے اس پیالہ کو ٹلانے کی ہر چند کوشش کی مگر مولوی عبداللہ صاحب سنوری نے آخر اس کو مجبور کیا کہ وہ قسم کھلوائے۔یہ تمام کیفیت ایڈیٹر صاحب الفضل نے 9 دسمبر ۱۹۱۶ء کے اخبار میں اور شاید علیحدہ بھی چھاپ دی ہے۔میں اس میں سے صرف حلف اٹھانے کا نظارہ درج کر دیتا ہوں۔