سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 553 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 553

سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرمایا کہ ۵۵۳ حصہ پنجم کچھ دن گزرے ہیں کہ اس عاجز کو ایک عجیب خواب آیا اور وہ یہ ہے کہ ایک مجمع زاہدین اور عابدین ہے اور ہر ایک شخص کھڑا ہو کر اپنے مشرب کا حال بیان کرتا ہے اور مشرب کے بیان کرنے کے وقت ایک شعر موزوں اُس کے منہ سے نکلتا ہے جس کا اخیر لفظ قعود اور سجود اور شہود وغیرہ آتا ہے جیسے یہ مصرع تمام شب گز را نیم در قیام و سجود چند زاہدین اور عابدین نے ایسے ایسے شعر اپنی تعریف میں پڑھے ہیں پھر اخیر پر اس عاجز نے اپنے مناسب حال سمجھ کر ایک شعر پڑھنا چاہا ہے مگر اُس وقت وہ خواب کی حالت جاتی رہی اور جو شعر اس خواب کی مجلس میں پڑھنا تھاوہ بطورا الہام زبان پر جاری ہو گیا اور وہ یہ ہے ہے طریق زہد و تعبد ندانم اے زاہد خدائے من قدمم راند بر رو داؤد مکتوبات احمد جلد اصفحہ ۵۸۷ مطبوعہ ۲۰۰۸ء) یہ ایسے وقت کا الہام ہے جب آپ کسی سے بیعت نہ لیتے تھے اور اس کے لئے مامور نہ تھے اس داؤدی فطرت کو اس آئینہ دعا میں پڑھو جو آپ کے اکیلے وقت کی دعا ہے۔(عرفانی) اکیلے وقت کی دعا اے میرے خدا میری فریا دسن کہ میں اکیلا ہوں اے میری پناہ ! اے میری سپر! اے میرے پیارے! مجھے ایسا مت چھوڑ، میں تیرے ساتھ ہوں اور تیری درگاہ پر میری روح سجدے میں ہے اس کی دعا کی قبولیت کو ان الہامات میں مشاہدہ کرو جوانی مَعَكَ وَ مَعَ أَهْلِكَ (٢) أَنْتَ مِنّى بِمَنْزِلَةِ تَوْحِيدِى وَ تَفْرِيدِی وغیر ذالک کے الفاظ میں ہوئے ہیں۔ہی ترجمہ۔اے زاہد! میں تو کوئی زہد و تعبد کا طریق نہیں جانتا۔میرے خدا نے خود ہی میرے قدم کو داؤد کے راستہ پر ڈال دیا ہے۔