سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 552 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 552

سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۵۵۲ حصہ پنجم اس طریق پر یہ بہت بڑی نظم ہے اُس کے پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ محبت الہی کا ایک فوارہ ہے جو آپ کے اندر پھوٹ رہا ہے اور آپ کی روح حضرت باری کے حضور پرواز کرتی ہوئی چلی جاتی ہے اس طرح پر آپ کی دعاؤں کی یہ ایک خصوصیت ہے کہ ان میں اطناب ہوتا ہے اور اس اطناب میں خود حضرت باری کی حمد و ثناء کے لئے جوش پایا جاتا ہے اور بعض اوقات اس حمد و ثناء میں اتنے مستغرق اور گم ہو جاتے ہیں کہ نفس مطلب دعا بھی اس جوش حمد الہی میں گم ہو جاتا ہے۔میں نے یہ تو ایک مختصر سا نکتہ بتایا ہے اور وہ بھی حالت بیماری میں لیٹے لیٹے لکھا سکا۔انشاء اللہ العزیز صحت ہو جانے پر اسرار د عا پیش کر سکوں۔وَبِاللهِ التَّوفيق (۱۵) اکیلے وقت کی دعا تمہیدی نوٹ ) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو تمام انبیاء علیہم السلام سے ایک مشابہت دی گئی ہے اور اس لئے حضرت مسیح موعود کو خدا تعالیٰ نے بعض نبیوں کے اسماء سے پکارا اور بالآ خر فر مایا جَرِى اللهِ فِى حُلَلِ الْأَنْبِيَاءِ چنانچہ آپ فرماتے ہیں۔میں کبھی آدم کبھی موسیٰ کبھی یعقوب ہوں نیز ابراہیم ہوں نسلیں ہیں میری بے شمار اک شجر ہوں جس کو داؤدی صفت کے پھل لگے میں ہوا داؤد اور جالوت ہے میرا شکار آپ کی فطرت کو حضرت داؤد علیہ السلام کی فطرت سے بھی ایک مناسبت ہے اور یہی وجہ ہے کہ آپ کی بعض دعا ئیں بالکل حضرت داؤد علیہ الصلوۃ والسلام کی دعاؤں کے ہم رنگ ہیں اور کوئی شخص زبور کی ایک دعا اور آپ کی اکیلے وقت کی دعا پڑھ کر امتیاز نہیں کرسکتا۔یہ امر کہ آپ کو حضرت داؤد علیہ السلام سے مناسبت ہے آپ کے مندرجہ بالا کلام سے بھی ظاہر ہے او آپ کے الہامات میں خدا تعالیٰ نے داؤد کے نام سے آپ کو مخاطب فرمایا مگر میں ایک واقعہ کا ذکر ضروری سمجھتا ہوں ۷ جنوری ۱۸۸۴ء کو آپ نے میر عباس علی لد بانوی کو ایک مکتوب میں