سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 31
سیرت حضرت مسیح موعود علیہا ۳۱ اقدس کے بدن مبارک پر لرزہ سا محسوس ہوا۔اس لرزہ کے ساتھ ہی حضور نے اپنا ہاتھ مبارک منہ پر سے اٹھا کر میری طرف دیکھا اس وقت آپ کی آنکھوں میں آنسو بھرے ہوئے تھے۔شاید جاری بھی تھے اور پھر اسی طرح منہ پر ہاتھ رکھ کر لیٹے رہے۔جب میری نظر ٹخنہ پر پڑی تو اس پر ایک قطرہ سرخی کا جو پھیلا ہوا نہیں بلکہ بستہ تھا مجھے دکھلائی دیا، میں نے اپنی شہادت کی انگلی کا پھول اس قطرہ پر رکھا تو وہ پھیل گیا۔اور سرخی میری انگلی کو بھی لگ گئی۔اس وقت میں حیران ہوا اور میرے دل میں یہ آیت گزری صِبْغَةَ اللهِ وَمَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللهِ صِبْغَةٌ "يز یہ بھی دل میں گزرا کہ اگر یہ اللہ کا رنگ ہے تو اس میں شاید خوشبو بھی ہو۔چنانچہ میں نے اپنی انگلی سنگھی مگر خوشبو وغیرہ کچھ نہ تھی۔پھر میں ٹخنہ کی طرف سے کمر کی طرف دبانے لگا تو حضرت اقدس کے کرتہ پر بھی چند داغ سرخی کے گیلے گیلے دیکھے مجھ کو نہایت تعجب ہوا اور میں وہاں سے اٹھ کھڑا ہوا اور حجرہ کی ہر جگہ کو اچھی طرح دیکھا مگر مجھے سرخی کا کوئی نشان حجرہ کے اندر نہ ملا۔آخر حیران سا ہو کر بیٹھ گیا اور بدستور پاؤں دبانے لگ گیا حضرت صاحب منہ پر ہاتھ رکھے لیٹے رہے تھوڑی دیر کے بعد حضور اٹھ کر بیٹھ گئے اور پھر مسجد مبارک میں آکر بیٹھ گئے یہ عاجز بدستور پھر کمر وغیرہ دبانے لگ گیا۔اس وقت میں نے حضور سے عرض کی کہ حضور پر یہ سرخی کہاں سے گری۔پہلے تو ٹال دیا پھر اس عاجز کے اصرار پر وہ سارا واقعہ بیان فرمایا جس کو حضرت اقدس تفصیل کے ساتھ اپنی کتابوں میں درج فرما چکے ہیں مگر بیان کرنے سے پہلے اس عاجز کو رویت باری تعالیٰ کا مسئلہ اور کشفی امور کا خارج میں وجود پکڑنا حضرت محی الدین ابن عربی کے واقعات سنا کر خوب اچھی طرح سے ذہن نشین کرا دیا تھا کہ اس جہان میں کاملین کو بعض صفات الہیہ جمالی یا جلالی متمثل ہو کر دکھلائی دے جاتی ہیں۔پھر حضرت اقدس نے مجھے فرمایا کہ آپ کے کپڑوں پر بھی کوئی قطرہ گرا۔میں نے اپنے کپڑے ادھر ادھر سے دیکھ کر عرض کیا کہ حضرت میرے پر تو کوئی قطرہ نہیں ہے حصّہ اوّل