سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 30 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 30

سیرت حضرت مسیح موعود علیہا وعود علیہ السلام اور قلم ہوتی تھی جو اس چوکی پر رکھی رہتی تھی۔دوسری شادی مبارک چونکہ حضور کی ابھی نہیں ہوئی تھی اس واسطے حضور عالی دن کو مسجد مبارک کے حجرہ میں اور رات کو مسجد مبارک کی چھت پر مقام فرمایا کرتے تھے اور یہ عاجز بھی اسی جگہ روز وشب رہا کرتا تھا ان ہی ایام میں حضرت اقدس اذان بھی خود ہی دیا کرتے تھے اور جماعت بھی آپ ہی کرایا کرتے تھے صرف دو تین مقتدی ہوا کرتے تھے۔ایک یہ عاجز اور ایک حافظ حامد علی صاحب اور ایک آدھ کوئی اور۔مہمانوں کی آمدو رفت کا سلسلہ بہت ہی کم تھا وہ بھی صرف گرد و نواح کے۔اسی قسم کی پیاری پیاری اور ایمان بڑھانے والی باتیں تو بہت ہیں جنہیں چھوڑنے کو دل نہیں چاہتا مگر طوالت مضمون سے ڈر کر اصل مدعا عرض کرتا ہوں۔رمضان شریف میں یہ عاجز حاضر خدمت سرا پا برکت تھا کہ آخری عشرہ میں ۲۷ تاریخ کو جمعہ تھا اس جمعہ کی صبح کی نماز پڑھ کر حضرت اقدس حسب معمول حجرہ مذکور میں جا کر چار پائی پر لیٹ گئے اور یہ عاجز پاس بیٹھ کر حسب معمول پاؤں مبارک دبانے لگ گیا۔حتی کہ آفتاب نکل آیا اور حجرہ میں بھی روشنی ہوگئی۔حضرت اقدس اس وقت کروٹ کے بل لیٹے ہوئے تھے اور منہ مبارک پر اپنا ہاتھ کہنی کی جگہ سے رکھا ہوا تھا۔میرے دل میں اس وقت بڑے سرور اور ذوق سے یہ خیالات موجزن تھے۔کہ میں کیا خوش نصیب ہوں۔کیا ہی عمدہ موقعہ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے مجھے دیا ہے کہ مہینوں میں مہینہ مبارک رمضان شریف کا ہے اور تاریخ بھی جو ۲۷ ہے مبارک ہے اور عشرہ بھی مبارک ہے اور دن بھی جمعہ ہے۔جو نہایت مبارک ہے۔اور جس شخص کے پاس بیٹھا ہوں وہ بھی نہایت مبارک ہے۔اللہ اکبر کس قدر برکتیں آج میرے لئے جمع ہیں۔اگر خداوند کریم اس وقت کوئی نشان حضرت اقدس کا مجھے دکھلا دے تو کیا بعید ہے۔میں اسی سرور میں تھا اور پاؤں ٹخنہ کے قریب سے دبا رہا تھا کہ یکا یک حضرت حصّہ اوّل