سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 540 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 540

سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۵۴۰ حصہ پنجم وصیت کی جس کا نتیجہ یہ ہے کہ آپ کی ساری اولا د الحَمدُ لِلہ اس وقت قادیان میں مہاجرین کی صورت میں رہتی ہے اور حضرت منشی صاحب سے جناب خلیفہ المسیح اول رضی اللہ عنہ کونسبت صبری تھی۔اس ارشاد عالی کی تعمیل میں حضرت منشی احمد جان صاحب نے بیت اللہ میں جا کر حضرت مسیح موعود کے الفاظ میں دعا کی۔اور بآواز بلند دعا کی اور جماعت آمین کہتی تھی۔مقام عرفات پر بھی یہ دعا کی۔مناجات شوریدہ اندر حرم اس سال حج اکبر ہوا۔یعنی جمعہ کے دن حج سے فراغت پاکر بخیر و عافیت جیسا کہ حضرت اقدس نے تحریر فرمایا تھا۔واپس تشریف لائے اور گیارہ بارہ روز زندہ رہ کر ۱۳۰۳ھ میں لودہا نہ میں وفات پائی۔یہ اس دعا کی قبولیت کا ایک نشان ہے۔حضرت اقدس نے منشی صاحب کی بخیر و عافیت واپسی کے لئے دعا کی تھی۔اس دعا کی قبولیت تو ان کی مع الخیر واپسی سے ظاہر ہے۔اور یہی ثبوت ہے کہ دعا جو اس خط میں درج ہے۔وہ بھی قبول ہوئی اور بعد کے واقعات اور حالات نے اس کی قبولیت کا مشاہدہ کرا دیا۔کافی ہے سو چنے کواگر اہل کوئی ہے اس خط کے بوسیدہ ہو جانے کی وجہ سے کچھ حصہ اڑ گیا ہے۔جہاں نقطے دے دیئے ہیں۔مگر یہ ضائع شدہ الفاظ مضمون کے مطالعہ سے معلوم ہو سکتے ہیں۔تقاضائے ادب مجھے مجبور کرتا ہے کہ میں ان الفاظ کو ( جو سیاق و سباق عبارت سے بآسانی سمجھ میں آ سکتے ہیں ) اپنی طرف سے نہ لکھوں۔بہر حال حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی یہ دعا آپ کی سیرت آپ کے ایمان علی اللہ اور جوش تبلیغ اور قبولیت دعا پر ایمان کے مختلف شعبوں کو ظاہر کرتی ہے۔(عرفانی)