سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 520 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 520

سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۵۲۰ حصہ پنجم وہ ایک فانی فی اللہ کی اندھیری راتوں کی دعائیں ہی تھیں جنہوں نے دنیا میں شور مچا دیا۔اور وہ عجائب باتیں دکھلائیں کہ جو اُس امی بیکس سے محالات کی طرح نظر آتی تھیں۔اللَّهُمَّ صَلِّ وَ سَلَّمْ وَبَارِك عَلَيْهِ وَآلِهِ بِعَدَدِ هَمه وَ غَمِّهِ وَحُزْنِهِ لِهَذِهِ الَّا مَّةٍ وَ اَنْزِلُ عَلَيْهِ أَنْوَارَ رَحْمَتِكَ إِلَى الْأَبَدِ - بركات الدعار وحانی خزائن جلد ۲ صفحہ ۱۱،۱۰) اور ایک دوسرے مقام پر آپ اس طرح پر اس کا اظہار فرماتے ہیں۔(1) اندر آن وقتے کہ دنیا پر ز شرک و کفر بود هیچکس را خون نه شد دل جز دل آن شهر میاد (۲) هیچکس از خبث شرک ور جس بت آگه نه شد این خبر شد جان احمد را که بود از عشق زار (۳) کس چه می داند کرازان ناله ها باشد خبر کان شفیعے کرداز بهر جهان در پنج غار ر گنج (۴) من نمیدانم چه دردے بود و اندوه و غم کاندران غارے درآوردش حزین و دلفگار (۵) نے ز تاریکی توحش نے تنہائی ہر اس نے زمر دن غم نہ خوف کر دے ئے بیم مار (۲) کشته قوم و فدائے خلق و قربان جہان نے بجسم خویش میلش نے بہ نفس خویش کار (۷) نعرہ ہا پُر درد میزد از پئے خلق خدا شد تضرع کار او پیش خدا لیل و نہار ی ترجمہ اشعار۔(۱) ایسے وقت میں جبکہ دنیا کفر و شرک سے بھر گئی تھی سوائے اُس بادشاہ کے اور کسی کا دل اس کے لئے غمگین نہ ہوا۔(۲) کوئی بھی شرک کی نجاست اور بتوں کی گندگی سے آگاہ نہ تھا صرف احمد کے دل کو یہ آگاہی ہوئی جو محبت الہی سے چور تھا۔(۳) کون جانتا ہے اور کسے اُس آہ وزاری کی خبر ہے؟ جو آنحضرت نے دنیا کے لئے غار حرا میں کی۔(۴) میں نہیں جانتا کہ کیا در دغم اور تکلیف تھی جو اسے غم زدہ کر کے اس غار میں لاتی تھی۔(۵) نہ اسے اندھیرے کا خوف تھا نہ تنہائی کا ڈر نہ مرنے کا غم نہ سانپ بچھو کا خطرہ۔(۶) وہ کشتہ قوم فدائے خلق اور اہل جہاں پر قربان تھا نہ اسے اپنے تن بدن سے کچھ تعلق تھا نہ اپنی جان سے کچھ کام۔(۷) خدا کی مخلوق کے لئے دردناک آہیں بھرتا تھا اور خدا کے سامنے رات دن گریہ وزاری اس کا کام تھا۔