سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 515 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 515

سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۵۱۵ حصہ پنجم (11) نفس را هر که از میان انداخت شب او روز گشت واه بشناخت (۱۲) تا نفس خود اسیر ضلال كشف راه خدا مبذ خیال (۱۳) ماه تاباں است صورت دلدار نفس تو پیش ماه چون دیوار است (۱۴) تا مرا بر رخ تو سودائی است از خلائق ز غم نه پروائی (۱۵) خلق در کاروبار خود ہوشیار ما چو مستان فتاده بر درِ یار ان اشعار پر پورے سکون اور اطمینان سے غور کرو یہ کلام ۱۸۶۲٬۶۱۸۶۰ء کا ہے اور یہ وہ وقت ہے جبکہ اپنی عمر کے بچھپیں چھبیس سال کے نوجوان تھے جس عہد شباب میں انسان کی امنگوں میں ہیجان اور دماغ میں ایک خاص قسم کا نشہ ہوتا ہے مگر حضرت فرخ کی طبیعت اور آپ کے دل و دماغ میں جن خیالات کا ہجوم ہے وہ دنیا اور اس کی کدورتوں سے پاک ہیں وہ اپنی پیدائش کی علت غائی صرف خدا ہی کا ہو جانا یا خدا ہی کو پانا یقین کرتے ہیں اور اس کے لئے آپ کا قلب بے چین ہے۔پھر ان اشعار میں آپ اُن قلبی وارداتوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو خدا تعالیٰ کی محبت و عشق میں فنا ہو کر آپ کے قلب مطہر پر گزرتی ہیں صاف اعتراف واظہار ہے کہ۔خدا تعالیٰ کی رؤیت آپ کو ہوئی ہے اور اپنے مقام کا بھی لطیف پیرایہ میں شعور ہے جیسا کہ کہتے ہیں وہ شخص مبارک ہے جس نے مجھے دیکھا (الْحَمْدُ لِلَّهِ ثُمَّ اَلْحَمْدُ لِلهِ مجھے بھی یہ دولت نصیب ہوئی۔اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي مُبَارَكًا أَيْنَمَا يَكُونُ) ترجمہ اشعار۔(۱۱) جس نے اپنے نقش کو اپنے اور مولیٰ کے تعلقات سے باہر نکال دیا اس کی رات دن سے بدل جاتی ہے اور وہ صراط مستقیم کو شناخت کر لیتا ہے۔(۱۲) جب تک تو اپنے نفس کا اسیر ہے۔اللہ کے راستہ کے کھلنے کا خیال بھی نہ کر۔(۱۳) محبوب کا چہرہ تو چاند کی طرح روشن ہے۔لیکن تیرا نفس اس چاند کے سامنے دیوار کی طرح روک ہے۔(۱۴) جب سے مجھے آپ کے چہرہ کا عشق ہوا ہے۔میں مخلوق سے کسی قسم کا نہ غم رکھتا ہوں نہ اس کی پرواہ کرتا ہوں۔(۱۵) دنیا کے لوگ اپنے کاروبار میں ہوشیار ہیں اور ہم تو مستوں کی طرح آستانہ حضرت احدیت پر پڑے ہوئے ہیں۔