سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 516 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 516

سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۵۱۶ پھر اس کلام سے یہ بھی ظاہر ہے کہ اس وقت بھی آپ کو ایک بصیرت دی گئی تھی کہ آپ اس صدی کے مجدد ہوں گے۔غرض اس کلام میں آپ کے عہد شباب کی داستان موجود ہے ہاں ضرورت ہے۔قلب سلیم کی اَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى الِ مُحَمَّدٍ وَ بَارِكُ وَسَلِّمُ (۲) حضرت مسیح موعود کی پرانی دعا (۳) باز بنما یہ دعا بھی ۶۰۔۱۸۶۱ء کے زمانہ کی ہے ) بدین خود (۱) آن خداوند بر تر و پاک است صنعتش مهر و ماه و افلاک است (۲) ہر ره و کوچه پر شد از اشرار زنده کن دین خویش دیگر بار شوکت باز بر ما نظر کن از رحمت (۴) باز احیائے دین احمد کن مگس کُفر از جہاں رد کن (۵) کافر و و کفر از جهان بردار راحت بخش از سنگ و مردار متان جان من از بلاؤ غم برہان (1) اے خداوند قادر و (۷) تو غفوری و اکبر و امجد هشت بخشائش برون از حد (۸) کس شریک تو نیست در دوجہاں بر دو عالم توئی خدائے لگاں (۹) تو بزرگ و شان تست عظیم تو وحیدی و پاک و فرد قدیم ا ترجمہ اشعار۔(۱) وہ اللہ تعالیٰ بزرگ و پاک ہے جس نے سورج چاند اور افلاک کو پیدا کیا۔(۲) ہر راستہ اور کو چہ اشرار سے بھر گیا ہے۔اے خدا اپنے دین کو پھر زندہ کر۔(۳) پھر اپنے دین کی شوکت کو ظاہر کر۔پھر رحم سے ہم پر نظر کرو۔(۴) پھر دین احمد کو زندہ فرمائیے۔کفر کی مکھی کو دنیا سے دور فرماؤ۔(۵) کفرو کا فرکو دنیا سے اٹھا دو کتے اور مردار کو دور کر کے راحت عطا کرو۔(۶) اے خدائے قادر ومنان ! میری جان کو دین کے اس غم سے نجات دے۔(۷) تو غفور ہے اکبر ہے اور امجد ہے۔تیری بخشش کی کوئی انتہا نہیں ہے۔(۸) دونوں جہاں میں تیرا کوئی شریک نہیں۔تو ہی ایک وحدہ لاشریک خدا ہے۔(۹) تو بزرگ ہے اور تیری شان عظیم ہے۔تو اکیلا ہے تو پاک ہے تو لا شریک ازلی ابدی خدا ہے۔