سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 512 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 512

سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۵۱۲ چنانچہ آپ کے سوانح نویس شیخ یعقوب علی صاحب آپ کے سواخ میں ایک عجیب واقعہ جو آپ کی نہایت بچپن کی عمر کے متعلق ہے تحریر کرتے ہیں وہ یہ ہے کہ جب آپ کی عمر نہایت چھوٹی تھی تو اس وقت آپ اپنی ہم سن لڑکی کو جس سے بعد میں آپ کی شادی بھی ہو گئی کہا کرتے تھے کہ۔نا مراد ے دعا کر کہ خدا میرے نماز نصیب کرے“۔اس فقرہ سے جو نہایت بچپن کی عمر کا ہے پتہ چلتا ہے کہ نہایت بچپن کی عمر سے آپ کے دل میں کیسے جذبات موجزن تھے اور آپ کی خواہشات کا مرکز کس طرح خدا ہی خدا ہورہا تھا اور ساتھ ہی اس ذہانت کا پتہ چلتا ہے جو بچپن کی عمر سے آپ کے اندر پیدا ہوگئی تھی۔کیونکہ اس فقرہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت بھی آپ تمام خواہشات کا پورا کرنے والا خدا تعالیٰ ہی کو سمجھتے تھے اور عبادت کی توفیق کا دینا بھی اسی پر موقوف جانتے تھے۔نماز پڑھنے کی خواہش کرنا اور اس خواہش کو پورا کرنے والا خدا تعالیٰ ہی کو جاننا اور پھر اس گھر میں پرورش پا کر جس کے چھوٹے بڑے دنیا کو ہی اپنا خدا سمجھ رہے تھے ایک ایسی بات ہے جو سوائے کسی ایسے دل کے جو دنیا کی ملونی سے ہر طرح پاک ہو اور دنیا میں عظیم الشان تغیر پیدا کر دینے کے لئے خدا تعالیٰ سے تائید یافتہ ہونہیں نکل سکتی“ سیت مسیح موعود از حضرت خلیفۃ السیح الثانی انوارالعلوم جلد ۳ صفحه ۳۳۶، ۳۳۷) اس سے یہ امر واضح اور روشن ہے کہ بچپن ہی سے آپ کو دعاؤں کے لئے جوش اور نماز کی طرف رغبت تھی اور نما ز معراج المومن ہے اور الدُّعَاءُ مُخُ الْعِبَادَةِ ہے۔بچپن کی دعاؤں کے متعلق مجھے کوئی ایسا مواد نہیں مل سکا مگر اس فطرت کا اظہار ہی آپ کے ایمان باللہ اور تو کل علی اللہ کا ایک ثبوت ہے اور یہی فطرتی جذ بہ تھا جو بعد میں نشو ونما پاتا رہا۔