سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 509
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۵۰۹ حصہ پنجم زمانہ بعثت سے قبل کی دعائیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ بعثت سے میری مراد آپ کا اعلان دعوت بیعت ہے۔گو اس سے پہلے آپ کو اس قسم کے الہامات ہوتے تھے جو آپ کے مامور ومرسل ہونے پر دلالت کرتے تھے بلکہ براہین احمدیہ کے وقت (۱۸۷۹ء) کثرت سے ماموریت کے مظہر الہامات ہورہے تھے جن میں آپ کے مقام اور مرتبہ کا بھی ذکر تھا۔اور اللہ تعالیٰ نے اپنے اس کلام میں آپ کی شان کا ذکر فرمایا تھا۔ان الہامات کو دیکھ کر بعض دوستوں کو یہ بھی خیال گزرا کہ اس تعریف میں گونہ مبالغہ ہے چنانچہ لودہانہ کے ممتاز اور صاحب ارشاد صوفی حضرت منشی احمد جان صاحب رضی اللہ عنہ نے مِن وجہ اس کا ذکر صوفی عباس علی صاحب سے ( جوان ایام میں اول الناصرین تھے اور بعد میں کسی شامت اعمال کی وجہ سے مرتد ہو گئے ) کیا اور انہوں نے اپنے ایک خط میں اس کا ذکر کیا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کے جواب میں ان کو لکھا کہ۔جو منشی احمد جان صاحب نے یہ نصیحت فرمائی ہے کہ تعریف میں مبالغہ نہ ہو اس کا مطلب اس عاجز کو معلوم نہیں ہوا۔اس کتاب میں (براہین احمدیہ۔عرفانی) قرآن شریف اور حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف ہے سو وہ دونوں دریائے بے انتہا ہیں کہ اگر تمام دنیا کے عاقل اور فاضل ان کی تعریف کرتے رہیں تب بھی حق تعریف کا ادا نہیں ہو سکتا چہ جائیکہ مبالغہ تک نوبت پہنچے۔ہاں الہامی عبارت میں کہ جو اس عاجز پر خدا وند کریم کی طرف سے القا ہوئی کچھ کچھ تعریفیں ایسی لکھی ہیں کہ جو بظاہر اس عاجز کی طرف منسوب ہوتی ہیں مگر حقیقت میں وہ سب تعریفیں حضرت خاتم الانبیا صلی اللہ علیہ وسلم کی ہیں اور اسی وقت تک کوئی دوسرا ان کی طرف منسوب ہو سکتا ہے کہ جب تلک اسی نبی کریم کی متابعت کرے اور جب متابعت سے ایک ذرہ منہ پھیرے تو پھر تحت الثریٰ میں گر جاتا ہے ان الہامی عبارتوں میں۔